دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

ہی کی شان ہے فرشتوں کو دیدار کبھی نہیں۔احترقت فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ نور میں گرمی ہوتی ہے مگر اور قسم کی،نور کی گرمی نار کی گرمی کو ختم کردیتی ہے،جب مؤمن پلصراط سے گزریں گے تو دوزخ پکارے گی جاگزر جا تیری نورانیت سے میری آگ بجھی جارہی ہے،حضرت خلیل پر نار نمرود ٹھنڈی ہوگئی یہ کرشمہ ہے نور کی گرمی کا۔بعض صوفیاء پر ان کے چلوں میں نورانیت غالب ہوتی ہے تو وہ ٹھنڈا پانی بہت پیتے ہیں،ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں،ٹھنڈے پانی کے ٹپ میں بیٹھ جاویں تو وہ گرم ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ یہ حجابات حضرت جبریل کے لیے ہیں نہ کہ رب تعالٰی کے لیے رب تو حجاب میں ہونے سے پاک ہے۔

5731 -[34]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ إِسْرَافِيلَ مُنْذُ يَوْمَ خَلْقَهُ صَافًّا قَدَمَيْهِ لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَبْعُونَ نورا مَا مِنْهَا من نورٍ يدنو مِنْهُ إِلاّ احْتَرَقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله نے جناب اسرافیل کو پیدا فرمایا جس دن سے انہیں پیدا کیا ہے اپنے قدموں پر کھڑے ہیں ۱؎  وہ اپنی نگاہ نہیں اٹھاتے۲؎   ان کے اور رب تعالٰی کے درمیان ستر نور ہیں،ان میں سے کوئی نور نہیں مگر جس سے وہ قریب ہوں تو جل جاویں۳؎ (ترمذی)

۱؎  معلوم ہوا کہ اسرافیل علیہ السلام ان فرشتوں میں سے ہیں جن کی عبادت کھڑا رہنا ہے اور حکم الٰہی کا انتظار کرنا ہے کہ کب حکم ہو اور میں صور پھونکوں۔

۲؎  یعنی ان کی نگاہیں ادب سے نیچے ہیں،عرش اعظم یا لوح محفوظ کی طرف نظر نہیں اٹھاتے جیسے نمازی اپنی سجدہ گاہ پر قیام میں نظر رکھتا ہے ایسی ہی ان کی نظر ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور اس عالم کی ہر چیز کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ہر ادا حضور کی نگاہ میں ہے،اسی طرح سب غلاموں کی ہر ادا حضور کی نگاہ میں ہر وقت ہے۔جو عرش کو دیکھ سکتا ہے وہ فرش پر بھی نظر رکھ سکتا ہے،اعلٰی حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں۔

سر عرش پر ہے تری گزر                                         دل فرش پر ہے تیری نظر

۳؎  وہ حجاب نورانی ہیں ناری نہیں وہاں جلنا نور سے ہوسکتا ہے نہ کہ نار سے جیسے آج سورج کی شعاعوں سے گرمی حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ یہ شعاعیں جلا بھی دیتی ہیں۔اس جلنے کی تحقیق ہم ابھی پچھلی حدیث میں عرض کرچکے ہیں۔ جنت میں جنتیوں کو پرندوں کے بھنے گوشت بھی دیئےجائیں گے،رب فرماتاہے:"وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ" وہاں گوشت آگ سے نہ بھونے جائیں گے کہ جنت میں آگ نہیں بلکہ نور سے اور نورانی گرمی سے۔

5732 -[35]

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ قَالَتِ: الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ خَلَقْتَهُمْ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَنْكِحُونَ وَيَرْكَبُونَ فَاجْعَلْ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَجْعَلُ مَنْ خَلَقْتُهُ بيديَّ ونفخت فِيهِ مِنْ رُوحِي كَمَنْ قُلْتُ لَهُ: كُنْ فَكَانَ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ "

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ الله نے حضرت آدم اور ان کی اولاد کو پیدا کیا تو فرشتے بولے یارب تو نے انہیں پیدا فرمایا کہ وہ کھائیں گے پئیں گے،نکاح کریں گے،سوار ہوں گے ۱؎  تو ان کے لیے دنیا کردے اور ہمارے لیے آخرت ۲؎  الله تعالٰی نے فرمایا کہ جسے میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور جس میں میں نے اپنی روح پھونکی اسے اس مخلوق کی طرح نہ کروں گا جس سے میں نے کہا ہو جا وہ ہوگئی۳؎ (بیہقی شعب الایمان)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن