30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5222 -[68] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ «. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان " |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تجھ میں چار خوبیاں ہوں تو تجھ پر حرج نہیں کہ دنیا تجھ سے الگ رہے ۱؎ امانت کی حفاظت،بات کی سچائی،اچھی عادت،کھانے میں پاکدامنی۲؎ (احمد،بیہقی شعب ایمان) |
۱؎ یعنی اگر یہ چار نعمتیں تجھے خدا عطا فرمادے مگر دنیا تیرے پاس زیادہ نہ ہو تو تو پرواہ نہ کر کہ وہ نعمتیں دنیا و مافیہا سے افضل ہیں بلکہ دنیا کی زیادتی کبھی ان نعمتوں کو نقصان بھی دیتی ہے لہذا اس صورت میں دنیا کی کمی ہی اچھی ہے۔
۲؎ جسے یہ توفیق مل جاوے ان شاء اﷲ تعالٰی وہ دنیا میں کسی کا محتاج نہیں رہتا،اچھی عادت والا ان شاءالله بہت عزت پاتا ہے۔ جو اپنے حلق کو حرام کمائی سے اور زبان کو حرام بات سے محفوظ رکھے ان شاء اﷲ تعالٰی وہ بندہ مقبول الدعا ہوتا ہے،جو رب تعالٰی سے مانگتا ہے پالیتا ہے،تجربہ ہے الله تعالٰی نصیب کرے۔صدق مقال اکل حلال عبادات کی اصل ہے ۔
|
5223 -[69] وَعَنْ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ قِيلَ لِلُقْمَانَ الْحَكِيمِ: مَا بَلَغَ بِكَ مَا ترى؟ يَعْنِي الْفَضْلَ قَالَ: صِدْقُ الْحَدِيثِ وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ وَتَرْكُ مَا لَا يَعْنِينِي. رَوَاهُ فِي «الْمُوَطَّأِ» |
روایت ہے حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ لقمان حکیم سے پوچھا گیا ۱؎ کہ اس بزرگی تک آپ کو کس چیز نے پہنچایا جو ہم دیکھ رہے ہیں فرمایا کہ بات کی سچائی اور امانت کی ادائیگی اور بے کار باتوں کو چھوڑ دینے سے ۲؎ (مؤطا) |
۱؎ یعنی دینی اور دنیاوی فضائل تمہیں کن اچھے اعمال کی بدولت نصیب ہوئے،اﷲ تعالٰی کو آپ کی کون سی ادا پسند آ گئی جس سے آپ کو یہ رتبے مل گئے۔ خیال رہے کہ نبوت تو خاص عطا ربانی ہے یہ کسی عمل کا نتیجہ نہیں مگر ولایت قرب الٰہی کسبی بھی ہوتی ہے کہ کبھی اپنے اعمال سے ملتی ہے،کبھی محض وہبی عطا ء ربانی۔اگر حضرت لقمان نبی ہیں تو یہ سوال نبوت کے متعلق نہیں دیگر مراتب کے متعلق ہے اور اگر آپ نبی نہیں تب تو کوئی سوال ہی نہیں۔
۲؎ جو چیز ہم کو دین یا دنیا میں نفع نہ دے اس کے پیچھے نہ پڑو اس کی تحقیقات نہ کرو،یہ بہت سی آفتوں بہت سے گناہوں سے انسان کو بچالیتا ہے یہ بہترین عمل ہے۔مثل مشہور ہے کہ جس گاؤں جانا نہ ہو اس کے راستہ کی تحقیق کرنا بیکار ہے۔
|
5224 -[70] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِيء الْأَعْمَال فتجيء الصَّلَاة قتقول: يارب أَنَا الصَّلَاةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. فَتَجِيءُ الصَّدَقَة فَتَقول: يارب أَنَا الصَّدَقَةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ثُمَّ يَجِيء الصّيام فَيَقُول: يارب أَنَا الصِّيَامُ. فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ. ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ وَأَنَا الْإِسْلَامُ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ وَبِكَ أُعْطِي. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: (وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَة من الحاسرين) |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اعمال آئیں گے ۱؎ تو نماز آئے گی کہے گی یارب میں نماز ہوں فرمائے گا تو خیر پر ہے،پھر صدقہ آئے گا کہے گا یارب میں صدقہ ہوں فرمائے گا تو بھی خیر پر ہے ،پھر روزےآئیں گے عرض کریں گے یارب ہم روزے ہیں ۲؎ تو فرمائے گا تم خیر پر ہو ،پھر باقی نیک اعمال بھی اسی طرح آئیں گے ۳؎ رب تعالٰی فرمائے گا کہ تم خیر پر ہو ۴؎ پھر اسلام آئے گا ۵؎ تو عرض کرے گا یارب تو سلام ہے ۶؎ اور میں اسلام ہوں ۷؎ تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ تو بھلائی پر ہے آج تیری وجہ سے میں پکڑوں گا اور تیرے ذریعہ سے دوں گا ۸؎ الله تعالٰی نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ جو کوئی اسلام کے سوا کوئی دین تلاش کرے گا اس سے ہرگز قبول نہ کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں سے ہیں ۹؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع