30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعتراض محض حماقت ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں چرچرانے سے مراد ہے رب کی تسبیح و تہلیل کی آواز،عرش اعظم اٹھانے والے فرشتے اور خود عرش رب کی ہیبت سے تسبیح و تہلیل کررہے ہیں۔(مرقات)
|
5728 -[31] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ أَنَّ مَا بَيْنَ شحمة أُذُنَيْهِ إِلَى عَاتِقَيْهِ مَسِيرَةُ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں،فرمایا مجھے اجازت دی گئی ہے ۱؎ کہ تم کو الله کے فرشتوں میں ایک فرشتے کے متعلق خبر دوں عرش اٹھانے والوں سے کہ اس کے کانوں کی گدیوں سے اس کے کندھوں تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی ہم کو عالم غیب کی ہر چیز کی پوری خبر ہے مگر اس کے اظہار کی اجازت نہیں،ہاں اس میں جو فرشتے حاملین عرش ہیں ان میں سے ایک فرشتے کی جسامت و عظمت بتانے کی اجازت دی گئی ہے وہ تم کو بتائے دیتا ہوں حضور انور نے سارا عالم غیب اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔اس حدیث سے حضور انورصلی الله علیہ و سلم کے وسعت علم کا پتہ لگا،ساتھ ہی معلوم ہوا کہ کسی چیز کا نہ بتانا نہ جاننے کی دلیل نہیں،بتانا تو اجازت ربانی سے ہوتا ہے۔
۲؎ کان کی گدیا اور کندھے کے درمیان بہت ہی تھوڑا فاصلہ ہے،جب اس فرشتے کی کان کی گدیا کندھے سے اتنی دور ہے تو باقی جسم کا اندازہ کون لگاسکتا ہے۔خیال رہے کہ فرشتے انسانی شکل پر نہیں انسان کی شکل تمام خلق سے اچھی ہے"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"ان کی اپنی شکلیں مختلف عرش اٹھانے والے فرشتے بکروں سے ملتے جلتے ہیں جیساکہ پہلے گزر چکا۔
|
5729 -[32] وَعَن زُرَارَة بن أوفى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: " هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ لَوْ دَنَوْتُ مِنْ بَعْضِهَا لاحترقت «. هَكَذَا فِي» المصابيح " 5730 -[33]وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْيَةِ» عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنه لم يذكر: «فانتفض جِبْرِيل» |
روایت ہے حضرت زرارہ ابن اوفی سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جناب جبریل سے فرمایا کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو جبریل کانپ گئے ۱؎ اور عرض کیا اے حضور محمد! میرے اور رب کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں اگر میں ان کے بعض سے قریب ہوجاؤں تو جل جاؤں۲؎ اسی طرح مصابیح میں ہے اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے مگر انہوں نے اس کا ذکر نہ کیا کہ جبریل کانپ گئے۔ |
۱؎ حضرت جبریل علیہ السلام کا کانپ جانا یا اس سوال کی ہیبت سے ہے یا اس تصور سے ہے جو انہیں اس سوال پر بندھا کہ دیدار الٰہی پر بندہ کا کیا حال ہوگا۔
۲؎ ستر سے مراد زیادتی بیان فرمانا ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ میرے اور رب کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں۔خیال رہے کہ نور بھی حجاب بن جاتا ہے جیسے سورج کا نور اس کے لیے حجاب ہے۔اس سوال فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ دیدار الٰہی ممکن ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم یہ سوال کبھی نہ فرماتے،نیز اس سے معلوم ہوا کہ دیدار الٰہی صرف انسانوں کو ہوگا،جنتی مسلمان دیدار کریں گے، حضور انور نے معراج کی رات دیدار ذات اپنی آنکھوں سے کیا"ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"۔حضورصلی الله علیہ و سلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع