30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5727 -[30] وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ وَجَاعَ الْعِيَالُ وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ وَهَلَكَتِ الْأَنْعَام فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى الله نستشفع بِاللَّهِ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ» . فَمَا زَالَ يسبّح حَتَّى عُرف ذَلِك فِي وُجُوه أَصْحَابه ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا» وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مَثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وإِنه ليئط أطيط الرحل بالراكب» رَوَاهُ أَبُو دَاوُ |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک بدوی آیا عرض کیا کہ جانیں مشقت میں پڑ گئیں اور بال بچے بھوکے ہوگئے اور مال برباد جانور ہلاک ہوگئے ۲؎ تو آپ ہمارے لیے الله سے بارش مانگیں ہم آپ کو الله کی بارگاہ میں شفیع لاتے ہیں۳؎ تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا سبحان الله سبحان الله آپ صلی اللہ علیہ و سلم تسبیح فرماتے رہے حتی کہ یہ آپ کے صحابہ کے چہروں میں پہنچانا گیا۴؎ پھر فرمایا تجھ پر افسوس ہے الله تعالٰی کو کسی پر شفیع بنایا جانا الله کی شان اس سے بہت بڑی ہے۵؎ تجھ پر افسوس کیا تجھے خبر ہے کہ الله کی شان کیا ہے اس کا عرش اس کے آسمانوں پر ایسا ہے اور اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا اس پر قبہ کی طرح۶؎ اور وہ چرچرا رہا ہے جیسے کجاوے کا چرچرانا سوار کی وجہ سے۷؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،عبدمناف کی اولاد سے ہیں،فتح خیبر کے بعد فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے،نسب اورتواریخ کے بڑے عالم تھے،حضرت ابوبکر صدیق کے شاگرد ہیں رضی الله عنہ۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ یعنی بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا جانی مالی نقصان بہت زیادہ ہوچکا۔معلوم ہوا کہ اپنے دکھ درد کی کہانی حضور کو سنانا بالکل درست اور صحابہ کرام کا عمل ہے،یہاں کی فریاد کی ہوئی رب تعالٰی بہت کرم سے سنتا ہے۔
۳؎ یعنی ہم لوگ بارگاہِ الٰہی میں آپ کو اپنا شفیع بناتے ہیں کہ آپ کی دعا سے وہ ہم پر بارش بھیجے اور آپ کی بارگاہ میں الله تعالٰی کو شفیع اور سفارشی بناتے ہیں کہ آپ سے ہماری سفارش و شفاعت کرے کہ آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں گویا آپ کی دعا کا شفیع الله تعالٰی اور بارش کے شفیع آپ ہوں۔
۴؎ حضور صلی الله علیہ و سلم اس نووارد کی سخت غلطی پر تعجب فرمانے کے لیے بار بار سبحان الله کہتے رہے حتی کہ حاضرین بارگاہ کے چہرے اتر گئے اور ان پر خوف الٰہی ہیبت کبریائی کے آثار نمودار ہوگئے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ نے بھی پہلے اس شخص کی غلطی محسوس نہ کی تھی۔
۵؎ شفاعت بنا ہے شفیع سے بمعنی جوڑا،رب فرماتاہے:"وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ"۔سفارش کو شفاعت اس لیے کہتے ہیں کہ سائل حاکم کے سامنے ا کیلا پیش ہونے کی ہمت نہیں کرتا تو اس حاکم کے کسی منظور مقبول کے ساتھ مل کر جڑ کر حاکم کے سامنے پیش ہوتا ہے۔بہرحال شفیع سے حاکم افضل واعلٰی ہونا ضروری ہے اگر خدا تعالٰی کو شفیع کہا جاوے تو لازم آوے گا کہ کوئی اور اس سے اعلٰی ہے جس کے دربار میں خدا تعالٰی سے سفارش کرائی گئی،چونکہ یہ بہت باریک بات تھی اس لیے اس شخص کو نہ تو کافر کہا گیا نہ اس سے توبہ کرائی گئی،اس نے رب تعالٰی کی توہین نہیں کی بلکہ وہ شفاعت کے معنی نہیں سمجھا۔خیال رہے کہ الله تعالٰی کے نام اس کے صفات کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا درست ہے بلکہ الله کے نام کے وسیلہ سے بندوں سے مدد مانگنا درست ہے۔ہم کہا کرتے ہیں الله کے واسطے یہ دیدو الله کے نام کا صدقہ دے دو،کہا جاتا ہے شیئا لله بشفاعت ذات اور وسیلہ نام،وسیلہ صفات میں فرق ضرور کرنا چاہیے۔
۶؎ حضور انور نے اپنے بائیں ہاتھ شریف کی ہتھیلی پر اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو خیمہ یا قبہ گنبد کی طرح کھڑا کیا معقول کو محسوس کی طرح دکھایا۔
۷؎ یہ کلام عالی محض سمجھانے کے لیے ہے یعنی باوجودیکہ عرش الٰہی اتنا بڑا ہے کہ وہ تمام آسمانوں کو ایسے گھیرے ہے جیسے قبہ خیمہ اپنے نیچے کی زمین پر چھایا ہوتا ہے گھیرتا ہے مگر رب تعالٰی کی ہیبت سے گویا چرچرا رہا ہے،سوار کے بوجھ سے کمزور زین یا کمزورپالان چرچراتا ہے ورنہ وہاں نہ تو حقیقتًا بوجھ ہے نہ عرش اعظم میں چرچراہٹ کی آواز۔دیکھو طور پہاڑ تجلی الٰہی سے پھٹ گیا،یہ پھٹنا ہتھوڑے کی زد سے نہ تھا رب کی ہیبت و جلالت سے تھا،یہ حدیث متشابہات سے ہے جیسے"یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیۡدِیۡہِمْ"لہذا اس حدیث پر چکڑالویوں کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع