30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حضور انور کا ان سے یہ پوچھنا اگلے کلام کی تمہید ہے جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے پہلے یہ پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے پھر اگلا کلام فرمایا۔
۳؎ حضور صلی الله علیہ و سلم لغات کے بادشاہ ہیں۔مطلب یہ ہے کہ عربی میں بادل کے تین نام ہیں:سحاب،مزن،عنان یا تو بادل کے یہ تین نام ہیں،یا مزن وہ سفید بادل جو پانی کو روک نہ سکے ضرور برسے،عنان بھورا بادل اور سحاب ہر بادل۔(مرقات)اس کلام مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بادل کے یہ تین نام ہیں کیونکہ حضور انور نے اس دیکھے ہوئے بادل کے یہ تین نام ارشاد فرمائے۔
۴؎ یہ شک راوی کا ہے۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر ستر وغیرہ کے معنی ہوتے ہیں بے شمار یا بہت زیادہ لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کہ یہاں کا یہ فرمان بمعنی تکثیر ہے نہ کہ حدبندی کے لیے۔
۵؎ یعنی اتنے اتنے فاصلہ پر سات آسمان واقع ہیں فلاسفہ نو آسمان مانتے ہیں وہ کرسی اور عرش کو آسمان ہی کہتے ہیں مگر جھوٹے ہیں،قرآن کریم نے بھی آسمان سات ہی ارشاد فرمائے ہیں۔موجودہ سائنس آسمان کے وجود ہی کا انکار کرتی ہے مگر جھوٹی ہے آسمان ہیں اور سات ہیں انہیں نظر آئیں یا نہ آئیں انہیں ملیں یا نہ ملیں۔
۶؎ یعنی ساتوں آسمانوں کے اوپر صاف اور جاری پانی کا ذخائر دریا ہے جس کی گہرائی اتنی ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ،رب جانے کہ وہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے۔اس حدیث کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ الله تعالٰی نے عرش کے نیچے ایک نہایت گہرا دریا پیدا فرمایا۔
۷؎ اوعال جمع ہے وعل کی،وعل کہتے ہیں پہاڑی بکرے کو یہ فرشتے حاملین عرش ہیں جو بکرے کی شکل میں ہیں،یہ ہی فرشتے مؤمنین انسانوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
۸؎ یعنی وہ فرشتے جن کی پشت پر عرش اعظم ہے جو بکروں کی شکل میں ہیں،ان کی عظمت اور جسامت کا یہ حال ہے کہ ان کے کھر سے لے کر چوتڑوں تک اتنا عظیم الشان فاصلہ ہے جب ان کی ٹانگیں اتنی بڑی ہیں تو سمجھ لو کہ بقیہ جسم کتنا ہوگا وہ تو ہماری عقل سے وراء ہے۔
۹؎ یعنی عرش اعظم کا دل اس کی موٹائی اتنی ہے کہ اس کی اوپر اور نیچے کی سطحوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے۔
۱۰؎ یہاں فوقیت سے مراد جسمانی فوقیت نہیں نہ مکانی بلندی ہے بلکہ عظمت و قدرت کی بلندی مراد ہے یعنی الله تعالٰی کی عظمت و قدرت عرش اعظم سے بھی اوپر ہے۔مقصود یہ ہے کہ یہ بت جو زمین پر مارے مارے پھررہے ہیں عبادت کے لائق نہیں،عبادت کے لائق وہ رب ہے جس کی عظمت کا یہ حال ہے۔
|
5727 -[30] وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: جَهِدَتِ الْأَنْفُسُ وَجَاعَ الْعِيَالُ وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ وَهَلَكَتِ الْأَنْعَام فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى الله نستشفع بِاللَّهِ عَلَيْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ» . فَمَا زَالَ يسبّح حَتَّى عُرف ذَلِك فِي وُجُوه أَصْحَابه ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا» وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مَثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وإِنه ليئط أطيط الرحل بالراكب» رَوَاهُ أَبُو دَاوُ |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس ایک بدوی آیا عرض کیا کہ جانیں مشقت میں پڑ گئیں اور بال بچے بھوکے ہوگئے اور مال برباد جانور ہلاک ہوگئے ۲؎ تو آپ ہمارے لیے الله سے بارش مانگیں ہم آپ کو الله کی بارگاہ میں شفیع لاتے ہیں۳؎ تب نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا سبحان الله سبحان الله آپ صلی اللہ علیہ و سلم تسبیح فرماتے رہے حتی کہ یہ آپ کے صحابہ کے چہروں میں پہنچانا گیا۴؎ پھر فرمایا تجھ پر افسوس ہے الله تعالٰی کو کسی پر شفیع بنایا جانا الله کی شان اس سے بہت بڑی ہے۵؎ تجھ پر افسوس کیا تجھے خبر ہے کہ الله کی شان کیا ہے اس کا عرش اس کے آسمانوں پر ایسا ہے اور اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا اس پر قبہ کی طرح۶؎ اور وہ چرچرا رہا ہے جیسے کجاوے کا چرچرانا سوار کی وجہ سے۷؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع