30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ کافر ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَہٰذَا النَّبِیُّ" کیونکر وہاں اقتداء میں قرب مراد ہے اور یہاں زمانہ میں قرب۔خیال رہے کہ اقتداء سے مراد موافقت ہے حضور انور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے موافق ہیں کہ آپ کے دین میں ملتِ ابراہیمی پوری مکمل موجود ہے کچھ معہ زوائد کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی نبی کے مقتدی نہیں سب کے مقتداء ہیں بہرحال آیت و حدیث دونوں اپنے مقام پر حق ہیں۔
|
5723 -[23] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبَيْهِ بِإِصْبَعَيْهِ حِينَ يُوَلَدُ غَيْرَ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ» . |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر انسان کی کروٹوں میں شیطان اپنی انگلیاں مارتا ہے جب وہ پیدا ہوتا ہے ۱؎ سواء عیسیٰ ابن مریم کے۲؎ کہ وہ انگلی مارنے لگا تو اس کی انگلی پردہ میں لگی۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہاں بنی آدم سے مراد اولاد آدم ہیں لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔شیطان کو انسان سے دلی عداوت ہےوہ بچہ کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے پیچھے پڑتاہے،اسی مار کے اثر سے بچہ پیدائش کے وقت روتا ہے،بچپن میں بہت سی بیماریاں شیطان کے اثرسے ہوتی ہیں جیسے ام الصبیان وغیرہ جیسے سانپ بچھو وغیرہ جانور،بعض جڑی بوٹیاں انسان کو بیمار کردیتی ہیں ایسے ہی شیطان بھی انسان کو بیمارکردیتا ہے،رب فرماتاہے:"یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"۔
۲؎ ایسے مقام پر متکلم مستثنٰی ہوتا ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کو بھی ولادت پاک کے وقت شیطان نہ چھو سکا۔(اشعۃ اللمعات)اسی لیے حضور ولادت پاک کے وقت روئے نہیں۔
۳؎ یہ حدیث باب الوسوسہ میں گزر چکی ہے،اس وقت الله تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور شیطان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا شیطان کی انگلی اس پردے میں لگی،حضرت حنہ(والدہ مریم)کی دعا سے یہ واقعہ ہوا آپ نے دعاکی تھی"اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ"۔
|
5724 -[27] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النساءِ إِلا مريمُ بنتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ» .وَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ: «يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ».وَحَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ:«أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ» وَحَدِيثُ ابْن عمر:"الْكَرِيم بن الْكَرِيمِ:«.فِي» بَابِ الْمُفَاخَرَةِ وَالْعَصَبِيَّةِ " |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے کہ وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا مردوں میں تو بہت کامل ہوئے عورتوں میں سواءمریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کاملہ نہ ہوئیں ۱؎ اور جناب عائشہ رضی الله عنہا کی بزرگی ساری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی بزرگی تمام کھانوں پر۲؎ (مسلم،بخاری)اور انس رضی الله عنہ کی حدیث کہ یاخیر البریۃ اور ابوہریرہ کی حدیث ای الناس اکرم اور حضرت ابن عمر کی حدیث کریم ابن کریم،مفاخرہ اور عصبیہ کے باب میں ذکر کردی گئیں۳؎ |
۱؎ خیال رہے کہ یہاں کمال سے مراد نبوت و رسالت نہیں کیونکہ یہ کمال تو صرف انسان مردوں کو ہی ملا ہے کوئی عورت اور کوئی غیر انسان نبی نہیں ہوئے بلکہ مراد ولایت کاملہ قطبیت غوثیت وغیرہ ہے اور رب تعالٰی سے قرب خاص کہ یہ صفات مردوں کو زیادہ عورتوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع