دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۶؎  اس وقت بڑی عورت یا تو خاموش رہی یا کچھ ہلکی تڑپی دکھلاوے کے لیے،حقیقی تڑپ اور بناوٹی تڑپ میں فرق ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ کلام اقرار کے لیے نہیں بلکہ بے قراری میں تڑپ کے طور پر ہے یعنی آپ اسے قتل نہ کریں اسی کو دے دیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ چھوٹی نے بڑی کے لیے اقرار کر لیا پھر آپ نے بڑی کو یہ بچہ نہ دیا،اس علامت سے آپ نے پہچان لیا کہ ماں یہ ہی ہے بچہ کی جان بچانے کے لیے کہہ رہی ہے۔

۷؎  اس واقعہ سے چند مسئلے معلو م ہوئے: ایک یہ کہ اجتہادجائز ہے۔دوسرے یہ کہ کبھی اجتہاد میں غلطی بھی ہوجاتی ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے اجتہاد میں خطا ہوئی۔تیسرے یہ کہ خطا اجتہادی پر پکڑ اور مواخذہ نہیں ہوتا،دیکھو حضرت داؤد علیہ السلام کا فیصلہ ٹوٹ تو گیا مگر ان سے رب نے پوچھ گچھ نہ کی۔چوتھے یہ کہ کبھی افضل کے مقابلے میں مفضول کا فیصلہ قوی اور قابل عمل ہوتا ہے،دیکھو حضرت داؤد علیہ السلام صاحب کتاب صاحب شریعت نبی ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد ہیں،ان تمام باتوں کے باوجود عملی فیصلہ سلیمان علیہ السلام پر کیا گیا لہذا امام اعظم کے فرمان کے ہوتے ہوئے قول صاحبین پر فتویٰ دینا عمل کرنا درست ہے،یہ حدیث اس کا ماخذ ہے ایک مقدمہ کا ذکر تو قرآن مجید میں فرمایا ہے"فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ"۔

5720 -[23] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةٍ - وَفِي رِوَايَةٍ: بِمِائَةِ امْرَأَةٍ - كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ فَلَمْ تحملْ منهنَّ إِلا امرأةٌ واحدةٌ جاءتْ بشقِّ رَجُلٍ وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ الله فُرْسَانًا أجمعونَ ".

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں آج رات نوے بیویوں پر چکر لگاؤں گا،ایک روایت میں ہے کہ سو بیویوں پر ۱؎  وہ تمام ایک سوار جنیں گی جو الله کی راہ میں جہاد کرے گا۲؎  ان سے فرشتے نے کہا ان شاءالله کہہ لیجئے مگر وہ نہ کہہ سکے بھول گئے۳؎ چنانچہ آپ نے ان سب پر چکر لگایا۴؎ تو ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی سواء ایک عورت کے جو آدمی کی ایک کروٹ لائی اس کی قسم جس کے قبضہ میں حضور محمد کی جان ہے اگر وہ ان شاءاﷲ کہہ لیتے تو وہ سب الله کی راہ میں سوار ہوکر جہاد کرتے۵؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  اس وقت آپ کی بیویاں ننانوے تھیں لہذا یہاں سو سے مراد قریبًا سو ہیں،بعض روایات میں ساٹھ اور ستر بھی ہے کیونکہ بیویاں ساٹھ یا ستر تھیں باقی لونڈیاں تھیں،آپ کی کل بیویاں لونڈیاں ایک ہزار تھیں۔

۲؎  معلوم ہوا کہ دین کی خدمت کے لیے اولاد چاہنا اختیارکرنا سنت انبیاء ہے محض گھر کی رونق اور اپنی خدمت کی نیت نہ کرے۔

۳؎  آپ کی یہ بھول بھی رب تعالٰی کی طرف سے تھی تاکہ دنیا کے لیے مثال قائم ہوجاوے کہ ان شاءاﷲ نہ کہنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے،ان حضرات کی بھول میں رب کی حکمتیں ہوتی ہیں۔فرشتے سے مراد الہام والا فرشتہ ہے یا آپ کے ساتھ رہنے والا فرشتہ۔

۴؎  یعنی ایک شب میں ان سب سے صحبت کی اس میں آپ کے دو معجزے ہیں: ایک تو جماع کی اتنی طاقت کہ قریبًا سو بیویوں سے صحبت کی۔دوسرے ایک رات میں اتنی صحبتیں ہوجانا تھوڑے وقت میں زیادہ کام۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن