30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ جوار اور خوار دونوں کے معنی ہیں بچھڑے کی آواز پھر مطلقًا آواز کو کہنے لگے،اب محاورہ میں دعا عجزوانکسار کی آواز کو جوار کہتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی آپ مؤذن کی طرح دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالے بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں کانی زائدہ ہے جیسے لا اقسم میں لا زائدہ ہوتا ہے،حضور انور اپنی آنکھوں سے ان حضرات کو ملاحظہ فرمارہے تھے اور ان کا تلبیہ سن رہے تھے۔
۴؎ معلوم ہوا کہ الله کے بندے بعد وفات دنیا میں گشت کرتے ہیں اچھے مجمعوں میں جاتے ہیں،ذاکرین کے ساتھ شرکت کرتے ہیں، بزرگوں میں میلاد شریف،ختم رمضان شریف میں وفات یافتہ بزرگوں کو دیکھا ہے،شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کے ختم رمضان پر لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کو بیداری میں دیکھا انہوں نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کل فرمایا تھا کہ ہم عبدالعزیز کے ختم قرآن میں شرکت کرنے دہلی جائیں گے،دیکھو فتاویٰ عزیزیہ کا مقدمہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں لوگوں نے بیداری میں حضور صلی الله علیہ و سلم اور اولیاء کرام کو لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد فرماتے ہوئے دیکھا۔
۵؎ ہرشی منزل جحفہ کے قریب ایک پہاڑ کا نام ہے اسے کفت بھی کہتے تھے،راوی کو شک ہے کہ صحابہ کرام نے ان کا نام ہرشی لیا یا کفت اور ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے یہ ہی عرض کیا ہو یعنی اس پہاڑ کے دو نام ہیں ہرشی اور کفت جو چاہیں ہم کہہ لیں ہرشی یا کفت۔
۶؎ اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہاں کانی فرمانا یقین کے اظہار کے لیے ہے یعنی میں انہیں اس طرح یقینی طور پر دیکھ رہا ہوں گویا انہیں ان کی زندگی شریف میں ہی دیکھ رہاہوں۔
۷؎ چونکہ یہ حج حضور سید الانبیاء صلی الله علیہ و سلم کا آخری حج تھا اس لیے آسمانوں اور زمین سے حضرات انبیاءکرام برکت حاصل کرنے کے لیے شریک ہوئے،حضور انور نے انہیں ملاحظہ فرمایا۔اس واقعہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات انبیاءکرام بہ حیات کامل زندہ ہیں،ان کی موت ان کی زندگی کو فنا نہیں کرتی ،جیسے شہداء کا قتل ان کی زندگی فنا نہیں کرتا۔دوسرے یہ کہ وہ حضرات جہاں چاہیں جاتے آتے ہیں۔تیسرے یہ کہ ان کی صرف روح نہیں جاتی بلکہ جسم شریف بھی سیرکرتا ہے۔چوتھے یہ کہ انہیں اس دنیا کی خبر رہتی ہے کہ آج کہاں کیا ہورہا ہے،دیکھو حضور انور کا حج اس دنیا میں ہوا اور ان حضرات کو اس جہاں میں خبر ہوئی۔پانچویں یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم اور بعض حضور کے غلام ان بزرگوں کو دیکھتے ان کی آواز سنتے ہیں،ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اونٹنی پر سوار ہونا کانوں میں انگلیاں دینا تلبیہ کہنا جسم کا کام ہے صرف روح کا نہیں اور یہ اونٹنی قدرتی تھی جیسے جبریل امین گھوڑے پر سوار نمودار ہوتے تھے وہ گھوڑا قدرتی ہوتا تھا نہ کہ یہ دنیاوی گھوڑا۔
|
5718 -[21] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسَرَّحَ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسَرَّحَ دَوَابُّهُ وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عملِ يدَيهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام پر قرآن آسان کیا گیا ۱؎ تو آپ اپنے گھوڑے کا حکم دیتے تھے اس کی زین لگائی جاتی تھی تو آپ گھوڑے کے زین لگائے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے ۲؎ اور نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے کام سے۳؎(بخاری) |
۱؎ یہاں قرآن لغوی معنی میں ہے بمعنی پڑھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد زبور شریف ہے،رب فرماتا ہے:"وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع