30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5220 -[66] وَعَنْ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ لُقْمَانَ قَالَ لِابْنِهِ: «يَا بُنَيَّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ تَطَاوَلَ عَلَيْهِمْ مَا يُوعَدُونَ وَهُمْ إِلَى الْآخِرَةِ سرَاعًا يذهبون وَإنَّك قداستدبرت الدُّنْيَا مُنْذُ كُنْتَ وَاسْتَقْبَلْتَ الْآخِرَةَ وَإِنَّ دَارًا تسيرإليها أقربُ إِليك من دارٍ تخرج مِنْهَا» . رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت مالک سے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بچے لوگوں پر وہ دراز ہوگیا جس سے وہ ڈرتے جاتے ہیں ۱؎ اور وہ آخرت کی طرف دوڑے جارہے ہیں۲؎ اور تم جب سے پیدا ہوئے تب سے دنیا کو پیچھے چھوڑ رہے ہواور آخرت کی طرف جارہے ہو۳؎ اور وہ گھر جس کی طرف تم جارہے ہو اس سے زیادہ قریب ہے جس سے تم نکل رہے ہو۴؎ (زرین) |
۱؎ دراز ہونے سے مراد ہے دور ہونایعنی اعمال کی سزا و جزا دور ہے کہ بعد قیامت ملے گی اس دوری سے یہ دھوکا کھا جاتے ہیں کہ ابھی موت و قیامت بہت دور ہے نیکیاں کرلیں گے ابھی خوب مزے اڑا لو۔
۲؎ یعنی جسے یہ دور سمجھتے ہیں وہ بہت تیزی سے دوڑی آرہی ہے کیونکہ لوگ اس کی طرف ہر سانس میں بڑھ رہے ہیں۔
۳؎ جب سے بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی عمر شروع ہوجاتی ہے عمر گزرتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ عمر بڑھ رہی ہے مگر حقیقت میں گھٹ رہی ہے۔ایک شاعر کہتا ہے شعر
یسر المرء ما ذھب اللیالی و کان ذھابھن لہ ذھابا
۴؎ خیال رہے کہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اگرچہ دور معلوم ہو اور ہر جانے والی چیز دور ہے اگرچہ قریب معلوم ہو لہذا قبر اور آخرت قریب ہے دنیا دور ہے کہ وہ چیزیں دوڑی آرہی ہیں اور دنیا دوڑی جارہی ہے۔
|
5221 -[67] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كُلُّ مَخمومُ الْقلب صَدُوق اللِّسَان».قَالُوا: صدزق اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ:«هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا ۱؎ سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ ۲؎ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۳؎ (ابن ماجہ، بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ مخموم بنا ہے خم سے،خم کے معنی ہیں گھر میں جھاڑو دینا،کہا جاتا ہے خمیت البیت دل گویا گھر ہے اسے برائیوں سے بچانا گویا اس میں جھاڑو دینا ہے۔
۲؎ حضور صلی الله علیہ وسلم ایسے فصیح اللسان ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سمجھنے کے لیے لغت کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ یہ پوچھنے والے حضرات عرب تھے صاحبِ زبان تھے مگر مخموم کا ترجمہ پوچھ رہے ہیں۔
۳؎ ہر چیز کا کوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے۔دل کا کوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے دل میلا ہوتا ہے،پھر جیسے ناپاک بدن اس مسجد میں آنے کے قابل نہیں ایسے ہی ناپاک دل مسجد قرب الٰہی کے قابل نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ"۔
|
5222 -[68] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ «. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الْإِيمَان " |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تجھ میں چار خوبیاں ہوں تو تجھ پر حرج نہیں کہ دنیا تجھ سے الگ رہے ۱؎ امانت کی حفاظت،بات کی سچائی،اچھی عادت،کھانے میں پاکدامنی۲؎ (احمد،بیہقی شعب ایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع