30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ چونکہ بچہ پیدا ہوکر پہلی غذا دودھ حاصل کرتا ہے اس لیے فطرت دودھ کی شکل میں دکھائی گئی اور شراب انسان کی شکل بگاڑ کر صدہا بدعملیاں بدعقیدگیاں اس سے کرا دیتی ہے اس لیے گمراہی سرکشی شراب کی شکل میں دکھائی گئی جیسے خواب میں ہم رحمتوں اور آفتوں کو مختلف شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔شاہ مصر نے قحط سالیوں کو خشک بالیوں دبلی گایوں کی شکل میں دیکھا اسی طرح حضرات انبیاءکرام آئندہ واقعات کو مختلف شکلوں میں ملاحظہ کرتے ہیں۔
۶؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نبی کے عمل کا امت پر اثر پڑتا ہے کہ شراب آپ اختیار فرماتے اور گمراہ ہوتی امت۔دوسرے یہ کہ تاقیامت ان شاءالله سارے مسلمان کبھی گمراہ نہ ہوں گے،ان میں ایک جماعت ضرور حق پر رہے گی اور وہ ہی جماعت سب پر غالب رہے گی تعداد اس کی زیادہ ہوگی،حضور فرماتے ہیں اتبعوا السواد الاعظم بڑے گروہ ہی کی پیروی کرو۔الحمدﷲ اہلِ سنت والجماعت اب ہمیشہ سب پر غالب ہیں اور اسی۸۰ بلکہ نوے۹۰ فیصد یہ ہی ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور صلی الله علیہ و سلم رب تعالٰی کیطرف سے مؤید ہیں کوئی کام غلط آپ تک پہنچتا ہی نہیں،دیکھو حضور انور نے الله کی توفیق سے دودھ ہی اختیار کیا،جو کوئی خواب میں دودھ پئے ان شاءاﷲ وہ ہدایت پر رہے گا اور اسے خیر کی توفیق ملے گی اس تعبیر کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
|
5717 -[20] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ: «أَيُّ وَادٍ هَذَا؟».فَقَالُوا:وَادِي الْأَزْرَقِ.قَالَ:«كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى» فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ. فَقَالَ:«أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟» قَالُوا: هَرْشَى - أَوْ لِفْتُ -. فَقَالَ:«كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا» رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چلے تو ایک جنگل پرگزرے تو آپ نے فرمایا یہ کون جنگل ہے لوگوں نے کہا ارزق جنگل ۱؎ فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کا رنگ ان کے بال کاکچھ ذکر فرمایا۲؎ آپ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دیئے ہوئے بھی آپ کو الله سے قرب ہے۳؎ تلبیہ میں مشغول ہیں اس جنگل میں گزر رہے ہیں۴؎ فرماتے ہیں کہ پھر ہم کچھ اور چلے حتی کہ ہم ایک گھاٹی پر پہنچے تو فرمایا یہ کوئی گھاٹی ہے لوگوں نے کہا ہرشی ہے یا کفت ۵؎ تو فرمایا گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں ۶؎ جو سرخ اونٹنی پر ہیں آپ پر اونی جبہ ہے آپ کے ناقہ کی مہارکھجور کی کھال کی ہے اسی جنگل میں تلبیہ کہتے گزر رہے ہیں۷؎ (مسلم) |
۱؎ وادی ارزق حرمین شریفین کے درمیان ایک جنگل ہے،ارزق کے معنی ہیں نیل گوں یا تو وہاں کی زمین نیل گوں ہے یا کسی ایسے آدمی کی طرف منسوب ہے جس کا نام ارزق تھا یا اس کی آنکھیں نیل گوں تھیں یہ گزر یا تو حجۃ الودع کے موقع پر ہوا تھا یا عمرہ قضاکے وقت۔(مرقات،و اشعہ)
۲؎ کہ آپ گندمی رنگ ہیں خمدار بال شریف جیساکہ پہلے گزر چکا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع