30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی میں بالکل حضرت ابراہیم کی ہم شکل ہوں جو انہیں دیکھنا چاہے وہ مجھے دیکھ لے،حضور سیرت طیبہ طاہرہ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتے جلتے تھے۔
۵؎ دحیہ ابن خلیفہ کلبی بڑے مشہور صحابی ہیں،بہت ہی حسین و جمیل تھے،اکثر جبریل امین آپ کی شکل میں حاضر ہوتے تھے،حضرات صحابہ سمجھتے تھے کہ دحیہ کلبی آئے جبریل جب شکل انسانی میں آتے تو اس شکل میں آتے تھے،ان کی اپنی شکل و صورت تو ایسی ہے کہ کسی میں انکے دیکھنے کی تاب نہیں حضور انور نے صرف دوبار آپ کو اصلی شکل میں دیکھا جیساکہ روایات میں ہے۔
|
5715 -[18] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ شنُوءَة وَرَأَيْت رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطَ الرَّأْسِ وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلَا تَكُنْ فِي مرية من لِقَائِه» . |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں میں نے اس رات جس میں مجھے سیرکرائی گئی موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا گندمی رنگ والے دراز قد گھونگر والے بال گویا وہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں ۱؎ اور میں نے حضرت عیسیٰ کو دیکھا درمیانہ قد سرخی سفیدی کی طرف مائل سیدھے بال والے۲؎ میں نے آگ کے خزانچی مالک کودیکھا اور دجال کو دیکھا۳؎ ان نشانیوں میں جو الله نے حضور کو دکھائیں۴؎ تو آپ کو ان کی ملاقات میں شک میں نہ ہو۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ طوالا حرف ط کے پیش سے طویل کا مبالغہ ہے جیسے عجاب عجیب کا مبالغہ اور طوالا حرف ط کے کسرہ سے طویل کی جمع ہے،جیسے کریم کی جمع کرام آپ دراز قد چھریرے بدن گھونگریالے والے بال ہیں۔(مرقات)بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں جعد سے گھونگر والے بال مراد نہیں کیونکہ دوسرے روایت میں سبط الشعریعنی سیدھے بال والے بھی آیا ہے بلکہ جعد بمعنی پہلوان بھرے جسم والا مراد ہے،جعد بال کی صفت بھی آتی ہے اور جسم کی صفت بھی۔(اشعہ)
۲؎ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معراج میں حضور انور نے سارے نبیوں کو اجمالًا نہیں دیکھا جیسے واعظ حاضرین جلسہ پر طائرانہ نظر سے اجمالًا دیکھ لیتا ہے بلکہ تفصیل وار دیکھا ہر ایک کو پہچان لیا،ان کی شکل و شبہات حضور انور کو یاد رہی اس لیے تو ان کی شکلیں بتارہے ہیں،ہم میلاد شریف میں حضور کا حلیہ شریف بیان کرتے اور سنتے ہیں اس کی اصل یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے۔
۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ الله تعالٰی نے حضور صلی الله علیہ و سلم کو معراج کی رات گزشتہ انبیاء کرام بھی دکھائے ان سے ملاقات کلام سلام بھی کرائے اور موجودہ فرشتے مالک دوزخ وغیرہم بھی دکھائے ان سے کلام کرائے اور آئندہ پیدا ہونے والے لوگ دجال وغیرہ دکھائے، حضور کا علم بلکہ حضورصلی الله علیہ و سلم کی نظر ماضی،حال،مستقبل سب کو ملاحظہ فرماچکی ہے۔
۴؎ غالبًا یہ قول فی آیات الخ حضرت ابن عباس کا ہے،یعنی قرآن کریم میں جو ہے"لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی"اسی آیات سے مراد یہ ہی نشان قدرت ہیں،اگلوں پچھلوں سے ملاقات۔بعض شارحین نے فرمایا کہ فی آیات کا تعلق دجال سے ہے یعنی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے دجال کو مع اس کے ان شعبدوں کے ملاحظہ فرمایا جو وہ قریب قیامت ظاہر ہوکر لوگو کو دکھائے گا،بارش برسانا،مردے جلانا وغیرہ اس کی اور بہت توجیہیں کی گئی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع