30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی وہ زمین یا خشک گھاس صرف آپ کے نیچے ہی سے سبز نہ ہوئی بلکہ پیچھے سے بھی سبز ہوگئی،پیچھے سے مراد اردگرد چوطرفہ ہے یعنی آپ کا معجزہ یہ ہوا کہ آپ کی برکت جہاں آپ بیٹھے وہ میدان سرسبز ہوگیا یا کھاری زمین سبزہ سے بھر گئی۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کا فیض صرف انسانوں کو ہی نہیں پہنچتا بلکہ زمین کو پہنچ جاتا ہے کہ زمین سرسبز اور تبرک بن جاتی ہے،دیکھو حضرت مریم علیہا السلام کے ہاتھ شریف لگنے سے کھجور کا خشک ڈنڈ سرسبز ہو کر پھلوں سے لد گیا اور فورًا پھل پختہ بھی ہوگئے،رب فرماتاہے:"وَ ہُزِّیۡۤ اِلَیۡکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیۡکِ رُطَبًا جَنِیًّا"جب بزرگوں کے ہاتھ کی برکت سے خشک زمین سبز اور خشک درخت پھل دار ہوسکتے ہیں تو ان کی نگاہ کی برکت سے ہمارے خشک و غافل دل بھی ہرے بھرے اور زندہ ہوسکتے ہیں۔
|
5713 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى ابْنِ عِمْرَانَ فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ ". قَالَ: «فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكَ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا» قَالَ: " فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي " قَالَ: " فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرِهِ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُوتُ. قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ» . |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ حضرت ملک الموت موسیٰ ابن عمران علیہ السلام کے پاس آئے ان سے کہا کہ اپنے رب کا بلاوا قبول کیجئے ۱؎ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مار دیا۲؎ اسے نابینا کردیا۳؎ فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتہ رب تعالٰی کی طرف واپس ہوا۴؎ عرض کیا کہ تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۵؎ اور اس نے میری آنکھ بے کار کردی،فرماتے ہیں الله نے ان کی آنکھ انہیں لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کی طرف لوٹو ۶؎ ان سے کہو کہ آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر زندگی چاہتے ہوں تو اپنا ہاتھ بیل کی کھال پر رکھیئے آپ کا ہاتھ جتنے بالوں کو ڈھکے گا آپ ہر بال کے عوض ایک سال جئیں گے۷؎ عرض کیا پھر کیا فرمایا پھر آپ وفات پائیں گے ۸؎ عرض کیا تو ابھی قریب ہی ہیں۹؎ اے میرے رب مجھے مقدس زمین سے ایک پتھر کی پھینک کے قریب گرا دیجئے ۱۰؎ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الله کی قسم اگر میں اس کے پاس ہوتا تو تم کو ان کی قبر شریف راستہ کے کنارہ سرخ ٹیلہ کے پاس دکھاتا ۱۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی الله کا حکم جو آپ کی موت کے متعلق ہے اسے قبول کیجئے اور اپنے کو موت کے لیے پیش کیجئے۔یہ نبی کی ہی شان ہے ورنہ ملک الموت تو بادشاہوں سے بھی یہ نہیں کہتے،آتے ہیں اور جان نکال کر لے جاتے ہیں۔
۲؎ آپ نے ملک الموت کو طمانچہ مارا ان کو نبی کا ادب سکھانے کے لیے کوئی شخص نبی سے یہ نہ کہے کہ نماز پڑھ لیجئے،مسجد میں آئیے تو اس میں ایک طرح کا حکم ہے،حضرات انبیاءکرام حاکم ہوتے ہیں کسی بندے کے مامور یا محکوم نہیں ہوتے،نیز نبی تو ہر وقت ہی رب کے مطیع ہوتے ہیں،ان سے کہنا کہ آپ رب کی اطاعت کریں اس کا شائبہ ہے کہ انہیں غیرمطیع مانا۔(مرقات)نبی کا ادب یہ تھاکہ ملک الموت عرض کرتے کہ آپ کو یہاں رہنے اورچلنے کا اختیار ہے اگر اجازت ہو تو میں تعمیل ارشاد کروں،وہ تو الله تعالٰی کی طرف سے موت و حیات کے مختار ہوتے ہیں۔(مرقات)اس طمانچہ کی اور بہت وجہیں بیان کی گئیں ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع