30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی کوئی اپنے کو حضر ت یونس علیہ السلام سے افضل نہ کہے کیونکہ کوئی ولی خواہ کسی درجے کا ہو نبی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا،نبی کی شان تو بڑی ہے۔تمام جہان کے اولیاء مل کر صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچتے اور اگر "میں" سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم ہیں تو اس کے مطلب وہ ہی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے۔
۲؎ کیونکہ یونس علیہ السلام نبی ہیں اور تو نبی نہیں پھر اپنے کو ان سے افضل کیسے کہتا ہے،اس سے وہابی عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ کبھی امتی بظاہر نبی سے بڑھ جاتے ہیں۔
|
5711 -[14] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا» . |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ وہ لڑکا جسے خضر علیہ السلام نے قتل کیا ۱؎ وہ کافر پیدا ہوا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر سے سرکش کردیتا ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خضر خ کے فتحہ ض کے کسرہ سے بمعنی ہرے بھرے،آپ کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے،آپ نوح علیہ السلام کے ساتویں پشت میں ہیں،ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں موجود تھے،آپ کا مقام سمندر ہے،الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی قیامت تک زندہ رہیں گے،بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں،حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسرائیلی ولی محمد ولی کی بات سنتے جائیے،آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقعہ پر آپ اور الیاس علیہ السلام جمع ہوتے ہیں،ایک دوسرے کی حجامت کرتے ہیں اور یہ کلام کرتے ہیں بسم الله ماشاءالله لایسوق الخیر الا الله ،بسم الله ماشاءالله لا یصرف السوء الا الله ،بسم الله ماشاءالله مامن نعمۃ فمن الله،بسم الله ماشاءالله لاحول و لاقوۃ الا بالله ۔جو کوئی رات کو سوتے وقت وضو کرکے داہنی کروٹ پر لیٹے اور یہ کلمات پڑھ کر سوئے ان شاءالله ولی ہوجائے۔(اشعہ و مرقات)
۲؎ یعنی اس بچہ کی فطرت یہ تھی کہ یہ کفر اختیار کرتا اور کافرگر بنتا لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،اس کی ماں باپ مؤمن تھے وہ اس کی محبت میں خود بھی کافر بن جاتے اس لیے خضر علیہ السلام نے اسے قتل کردیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ خضر علیہ السلام نبی ہیں کیونکہ ولی اپنے الہام سے بے گناہ بچے کو قتل نہیں کر سکتا نبی کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نبی بہ اعلام الٰہی لوگوں کی سعادت شقاوت کفر و ایمان سے خبردار ہوتے ہیں،یہ علوم خمسہ سے ہے۔خیال رہے کہ ولی اپنے الہام کی بنا پر کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔
|
5712 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لِأَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ فَإِذَا هِيَ تَهْتَزُّ من خَلْفِه خضراء» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا خضر اس لیے نام رکھا گیا کہ آپ سفیدہ زمین پر بیٹھے ۱؎ تو اچانک وہ آپ کے پیچھے سے سبزہ سے حرکت کر رہی ہے۲؎ (بخاری) |
۱؎ فروہ سفیدہ خشک زمین کو بھی کہتے ہیں اور خشک گھاس کے گٹھے کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں بلکہ خشک چمڑہ کو بھی فروہ کہا جاتا ہے۔یعنی آپ کا نام شریف خضر نہیں،نام پاک تو بلیا یا عباس ہے،لقب خضر ہے بمعنی سبزہ بخش یا زندگی بخشنے والے،خضر صفت مشبہ ہے خضرۃ سے بمعنی سبزی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع