30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ واقعہ حضرت ایوب علیہ السلام کے مرض سے شفا پاجانے کے بعد کا ہے،غسل خانہ میں تنہائی کی حالت میں ننگا نہانا جائز ہے اگر وہاں بھی تہبند سے نہایا جائے افضل ہے۔
۲؎ جراد اسم جنس ہے مراد بہت ٹڈیاں ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔یہ بارش قدرتی تھی رب تعالٰی کے فضل و کرم سے آج بعض دفعہ بارش کے ساتھ بیر بہوٹی برستی ہے لہذا جانوروں کا برسنا ناممکن نہیں۔
۳؎ یعنی آپ اسی طرح برہنہ بدن غسل خانہ سے نکل کر اپنے تہبند شریف میں یہ ٹڈیاں جمع فرمانے لگے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ آسمان سے برسی ہوئی چیز جنگل کی خود رو جڑی بوٹیاں وہاں کے شکار کے جانور کسی کی ملکیت نہیں جس کا جی چاہے لے لے حتی کہ اگر قرینہ سے معلوم ہوا کہ یہ چیز ہم کو دی گئی ہے اسے بھی لے لینا جائز ہے جیسے برادران یوسف علیہ السلام نے اپنے سامان میں واپس کی ہوئی رقم دیکھ کر بولے"ہٰذِہٖ بِضٰعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیۡنَا"۔دوسرے یہ کہ جائز مال کی حرص بری نہیں بلکہ اچھی ہے جب کہ حلال ذریعہ سے حاصل ہو اور غفلت پیدا نہ کرے،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔
۴؎ آپ کی بیماری کے بعد رب تعالٰی نے آپ کی بیوی صاحبہ رحمت کو جوانی،صحت بخشی،اولاد بہت عطا کی مال اندازے سے بھی زیادہ عطا فرمایا اس فرمان عالی میں اس طرف اشارہ ہے۔
۵؎ سبحان الله! کیسا پیارا جواب ہے یعنی میں بہت مالدار ہوکر بھی تیری عطا سے بے نیاز نہیں،تیری عطا بھاگ کر دوڑ کر قبول کروں گا،اس میں رب کی نعمت کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ہے۔عرضکہ حرص نفسانی اور چیز ہے یہ حرص کچھ اور چیزہے،یہ حرص نفسانی نہ تھی،ہمیشہ اپنے کو رب کا محتاج جانو۔
|
5708 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ. فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ. فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ من أمره وأمرِ الْمُسلم فَدَعَا النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأُصْعَقُ مَعَهُمْ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرَى كَانَ فِيمَنْ صُعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ فِيمَنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ.». وَفِي رِوَايَةٍ: "فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَةِ يَوْمِ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي؟ وَلَا أَقُولُ: أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلَ مِنْ يُونُسَ بنِ مَتَّى "
5709 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَة: «لَا تفضلوا بَين أَنْبيَاء الله» |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی آپس میں جھگڑ پڑے مسلمان بولا اس کی قسم جس نے محمد صلی الله علیہ و سلم کو تمام جہان پر چن لیا تو یہودی بولا اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہانوں پر چن لیا ۱؎ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مار دیا یہودی نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا اور مسلمان کا جو واقعہ ہوا تھا حضورصلی الله علیہ و سلم کو اس کی خبر دی۲؎ نبی صلی الله علیہ و سلم نے مسلمان کو بلایا اور اس کے متعلق اس سے پوچھا اور اس نے حضور کو یہ خبر دی۳؎ تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو۴؎ کیونکہ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے میں بھی ان کے ساتھ بے ہوش ہوں گا۵؎ تو سب سے پہلے ہوش میں آنے والا میں ہوں گا،اچانک موسیٰ علیہ السلام عرش کا کنارہ پکڑے ہوں گے۶؎ میں نہیں جانتا کہ کیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں تھے مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ان میں سے ہیں جنہیں الله نے مستثنٰی فرمایا۷؎ اور ایک روایت میں ہے میں نہیں جانتاکہ کیا طور کی بے ہوشی حساب میں لگائی گئی۸؎ یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں نہیں کہتا کہ کوئی بھی یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہے ۹؎ اور حضرت ابوسعید کی روایت میں فرمایا انبیاءکرام میں بزرگی نہ دو (مسلم،بخاری)اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ الله تعالٰی کے نبیوں میں بزرگی نہ دو ۱۰؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع