30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کافر حاکم سے داد خواہی جائز ہے سنت یوسف علیہ السلام ہے اگرچہ الله کے فضل سے آپ اس کافر بادشاہ کے احسان مند ہوکر جیل سے نہ نکلے بلکہ اس پر احسان کرکے نکلے رب نے آپ کی شان بالا رکھی۔بعض شارحین نے رکن شدید سے مراد لوط علیہ السلام کی قوم ہی لی ہے یعنی ان کی قوم طاقتور تھی اور آپ کو ان کی حمایت حاصل تھی،دیکھو شعیب علیہ السلام کو ان کی قوم سے قوت دی کہ کفار نے کہا "لَوْ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمْنٰکَ"حضور کو جناب ابو طالب سے قوت دی کہ فرمایا:" اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی"۔(مرقات)
۳؎ یعنی یوسف علیہ السلام نو سال یا بارہ سال جیل میں رہے مگر شاہ مصر کا قاصد آپ کو بادشاہ کی طرف سے بلانے آیا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے میری پاکدامنی کی تحقیق کرلو پھر میں جیل سے باہر نکلوں گا،یہ آپ کا اتنہائی صبر ہے،اگر ان کی جگہ جیل میں ہم اتنا رہتے تو ضرور پہلی ہی دعوت پر ہم جیل سے باہر آتے یہ حضور انور کی انتہائی تواضع ہے ورنہ حضور انو ر کا صبر یوسف علیہ السلام سے کہیں زیادہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ آپ کو پہلی دعوت پر ہی جیل سے باہر نکل آنا چاہیے تھا تاکہ تبلیغ نبوت جلد شروع ہوجاتی اگر ہم وہاں ہوتے تو پہلی دعوت پر باہر آکر تبلیغ شروع فرمادیتے۔ (مرقات)مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔
|
5706 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا تَسَتَّرَ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ: إِمَّا بَرَصٌ أَوْ أُدْرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ فَخَلَا يَوْمًا وَحده ليغتسل فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ فَجمع مُوسَى فِي إِثْرِهِ يَقُولُ: ثَوْبِي يَا حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ وَأَخْذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَوَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَو أَرْبعا أَو خمْسا ". |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام بہت شرمیلے پردہ دار تھے ۱؎ ان کی ظاہری کھال کا کوئی حصہ دیکھا نہ جاتا تھا شرم کی وجہ سے تو انہیں بنی اسرائیل میں سے جس نے ایذاء پہنچائی اس نے پہنچائی بولے اس قدر پردہ کسی کھال کے عیب کی وجہ سے ہی ہے یا برص ہے یا خصیوں کا ورم۲؎ الله نے چاہا کہ ان کو بری کرے۳؎ تو ایک دن وہ اکیلے تنہائی میں گئے تاکہ غسل کریں اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۴؎ موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے دوڑے اے پتھر میرے کپڑے،اے پتھرمیرے کپڑے۵؎ حتی کہ اسرائیلیوں کی ایک جماعت تک پہنچ گئے انہوں نے آپ کو برہنہ دیکھا ۶؎ کہ آپ الله کی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں،وہ بولے الله کی قسم موسیٰ علیہ السلام میں کوئی خرابی نہیں۷؎ اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنے لگے،رب کی قسم آپ کے مارنے سے پتھر میں تین چار یا پانچ نشانات ہیں۸؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بنی اسرائیل سب کے سامنے ننگے نہایا کرتے تھے مگر موسیٰ علیہ السلام غسل خانہ میں پردہ سے نہاتے تھے،اس حیاء پر بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو خفیہ بیماری کی تہمت لگادی۔معلوم ہوا کہ پردہ اور شرم سنت انبیاء ہے بے شرمی بے حیائی طریقہ کفار ہے،اس سے موجودہ فیشن پرست سبق لیں۔
۲؎ یعنی آپ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے چھپ کر نہاتے ہیں اگر بے عیب ہیں تو ہماری طرح سب کے سامنے ننگے کیوں نہیں نہاتے۔
۳؎ معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کرام اس قسم کی بیماریوں اور نفرت آور مرضوں سے محفوظ رہتے ہیں اور الله تعالٰی ان کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع