30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں بننے والی تھیں اور ہاجرہ حضرت اسماعیل کی والدہ حضور محمد رسول الله کی دادی بننے والی تھیں،الله ان کی عصمت کا والی تھا،جب نبی کی بیوی بننے والی عورت کو خواب میں احتلام نہیں ہوسکتا تو نبی کی ماں بننے والی بی بی پر کون قابو پاسکتا ہے۔
۱۵؎ اخدم کے معنی ہیں خادمہ بناکر دیا نہ کہ لونڈی بنا کر کیونکہ آپ مؤمنہ آزاد تھیں آزاد مؤمن کو کوئی بھی غلام نہیں بنا سکتا،اگر کافر قید کرکے غلام بنا بھی لے تو وہ چھوٹتے ہی آزاد ہوگا۔مرقات نے فرمایا کہ آپ کا نام ہاجرہ اس لیے ہوا کہ آپ بھی شام سے ہجرت کرکے آئی تھیں۔ہاجرہ بمعنی مہاجرہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر شریف ایک سو سال کی تھی،آپ سے حضرت اسماعیل علیہ ا لسلام پیدا ہوئے،انہیں سے عرب آباد ہوئے،انہیں کی اولاد سے آفتاب ہاشمی حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم چمکے سورج والے آسمان پر کوئی تارہ نہیں،حضرت اسماعیل کی نسل میں سواء حضور کے کوئی نبی نہیں،سارے تارے حضرت سارہ کی اولاد میں چمکے کیسی مبارک نسل ہے۔
۱۶؎ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ نے یا تو مکہ والوں کو یا اولاد اسماعیل علیہ السلام کو یا سارے عرب کو بنی ماء السماء فرمایا کہ اس لیے کہ یہ لوگ بارش کے پانی کی طرح طیب و طاہر تھے کہ حضور کے ہم وطن تھے یا اس لیے کہ ان کا گزارہ زمزم پانی پر تھا زمزم آسمان سے ہی آیا یا اس لیے کہ انصار عامر ابن حارثہ ازدی کی اولاد سے تھے اور عامر کو لوگ ماء السماء کہتے تھے یعنی اسماعیلیو یا اے اہل عرب تمہاری دادی صاحبہ جناب ہاجرہ ہیں رضی الله عنہا۔(اشعہ مرقات، لمعات)
|
5705 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: (رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تحيي الْمَوْتَى)وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ". |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہم حضرت ابراہیم سے زیادہ حق دار ہیں شک کرنے کے جب کہ انہوں نے عرض کیا یارب مجھے دکھادے کہ تو مردے کیسے زندہ کرے گا ۱؎ اور الله لوط پر رحم کرے وہ تو بڑے مضبوط پائے کی طرف پناہ لیے ہوئے۲؎ اور اگر میں اتنی دراز مدت ٹھہرتا جتنا یوسف علیہ السلام ٹھہرے تو بلانے والے کی بات قبول کر لیتا۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے جو عرض کیا تھا"اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی"یہ علم الیقین سے عین الیقین کی طرف ترقی کرنے کے لیے تھا نہ اس لیے کہ آپ کو قیامت میں مردے زندہ کرنے میں شک تھا اگر ا نہیں شک ہوتا تو ہم کو ضرور شک ہوتا کہ ہم ان کی اولاد میں ہیں الولد سر لابیہ۔ہم کو تو شک ہے ہی نہیں تو انہیں شک کیسے ہوسکتا ہے میری امت معصوم نہیں اور حضرت ابراہیم معصوم ہیں۔
۲؎ یہ حضرت لوط علیہ السلام کی غیبت یا ان پر طعن نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ہیں نبی اور انہوں نے اپنی پشت پناہ قوی ہونے کی آرزو کی تو معلو م ہوا کہ یہ عمل اور یہ آرزو کرنا جائز ہے کہ انسان مصیبت کے موقعہ پر اپنے عزیزوں قرابت داروں کی پناہ لے۔ (مرقات)اگرچہ مضبوط پشت پناہ سب کا رب تعالٰی ہے نبی کا عمل جواز کی دلیل ہے،جب فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آپ کے ہاں مہمان ہوئے اور بدکار قوم نے آپ کا گھر گھیر لیا تو آپ نے فرمایا"لَوْ اَنَّ لِیۡ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیۡدٍ"کاش کہ مجھ میں تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط طاقتور میرا پشت پناہ ہوتا تو میں تمہارا مقابلہ کرتا یا کرواتا،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان کی پناہ رب تھا پھر بھی آپ نے یہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ مخلوق کا سہارا لینا جائز ہے سنت نبی ہے جیسے یوسف علیہ السلام نے اس قیدی سے کہا تھا"اذْکُرْنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ"اپنے بادشاہ سے میری مظلومیت کی داستان کہہ دینا۔معلوم ہوا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع