30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ اس ظالم نے پہلے تو آپ کو بلایا تاکہ آپ سے طلاق حاصل کرکے حضرت سارہ پر قبضہ کرے،آپ نے فرمایا کہ یہ بی بی صاحبہ میری بہن ہیں،وہ بے دین بھائی سے بہن کو نہیں چھینتا تھا بلکہ خاوند سے بیوی کو طلاق دلواتا تھا اگر طلاق نہ دیتا تو اسے قتل کردیتا تھا،آپ بہ تعلیم الٰہی اس کا یہ اصول جانتے تھے۔
۶؎ اس طرح کہ مجھ سے تمہیں بذریعہ طلاق لے لے گا یا مجھے قتل کرا دے گا۔مردوں میں حضرت یوسف علیہ السلام بڑے حسین تھے اور عورتوں میں حضرت سارہ بڑی حسینہ تھیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا حسن حضرت سارہ کی میراث تھا۔حضرت سارہ ہاران کی بیٹی تھیں،ہاران اور آذر دونوں آپ کے چچا تھے،والد تارخ تھے جو مؤمن تھے۔
۷؎ یعنی اس زمین مصر میں میرے تمہارے سواء کوئی مؤمن نہیں اس وقت حضرت لوط آپ کے ساتھ نہ تھے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔(اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ ضرورۃً اپنی بیوی کو بہن کہنا جائز ہے اس سے ظہار نہیں ہو جاتا جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے حضور انور سے عرض کیا تھا کہ حضور میں تو حضور کا بھائی ہوں کیا میری بیٹی عائشہ سے آپ کا نکاح درست ہوگا،ویسے کوئی اپنے کو حضور کا بھائی نہیں کہہ سکتا"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"یہ بھی کہنا مسئلہ پوچھنے کی ضرورت سے تھا بلاضرورت زوجین ایک دوسرے کو بھائی بہن ہرگز نہ کہیں۔
۸؎ آج اس مردود نے اپنے اصول و قواعد کے بھی خلاف کیا کہ باوجودیکہ آپ نے انہیں اپنی بہن کہا اس نے پھر بھی پکڑوا کر بلالیا اور آپ کی طرف دست درازی کرنے لگا۔
۹؎ اس کی یہ پکڑ اور چھوٹ حضرت سارہ کی کرامت بھی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معجزہ بھی۔وہ اپنی حرکت پر پکڑا جاتا تھا جناب سارہ کی دعا پر چھوٹ جاتا تھا،آپ چھوٹنے کی دعا اس لیے کردیتی تھیں کہ اگر وہ مرگیا یا ایسا ہی رہا تو اس کی قوم مجھے تکلیف دے گی۔
۱۰؎ اس کی اس بات سے معلوم ہوا کہ وہ بادشاہ کافر تھا مگر وہابی نہ تھا وسیلہ اولیاء کا قائل تھا،اس نے خود رب سے دعا نہ کی بلکہ حضرت سارہ سے دعائیں کراتا رہا،وہ جانتا تھا کہ الله تعالٰی ان کی سنے گا میری نہ سنے گا ہر وقت اس کا ہاتھ سوکھ جاتا تھا اور اسے مرگی کا سا مرض لاحق ہوجاتا تھا جس سے وہ زمین پر اپنی ایڑیاں رگڑنے لگتا تھا۔
۱۱؎ الله تعالٰی نے اس ظالم کو پکڑا تو اس کے جرم سے مگر چھوڑا حضرت سارہ کی دعا سے جس سے پتہ لگا کہ مجرم اکثر پکڑے جاتے ہیں اپنی حرکتوں سے مگر خلاصی پاتے ہیں بزرگوں کے فیض سے۔آپ کی یہ دعا فورًا ہی قبول ہوئی کہ دعا کی اور وہ چھوڑا گیا۔
۱۲؎ مردود بڑا ڈھیٹ تھا کہ بار بار پکڑا جاتا تھا مگر جب چھوٹتا تھا برا ارادہ کرتا تھا کیونکہ وہ عادی مجرم تھا۔
۱۳؎ وہ لوگ جنات سے بہت ہی ڈرتے تھے،ہر خطرناک انسان کو جن کہہ دیتے تھے اسی وجہ سے اس نے آپ کو جن کہا یعنی خطرناک انسان جس پر میں قابو نہ پاسکا جیسے فرعون موسیٰ علیہ السلام کو ساحر کہہ کر آپ سے دعا کراتا تھا"یٰۤاَیُّہَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ"ساحر بمعنی بڑے کرشمے والا انسان۔شیطان سے مراد طاقتور جن ہے نہ کہ ابلیس کہ وہ ابلیس سے خبردار تھا ہی نہیں۔
۱۴؎ اس واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ہاجرہ کے ساتھ بھی یہ ہی واقعہ اس کا ہوچکا تھا کہ آپ کو ظلمًا پکڑ لیا تھا مگر آپ پر قابو نہ پاسکا مگر انہیں اپنے گھر میں رکھا آپ اس کے ہاں مظلومہ قیدی تھیں وہ بولا کہ چونکہ سارہ بھی اس طرح کی ہیں لہذا ہاجرہ سارہ کو دیدو انہیں بھی میرے گھر سے نکالو آپ لونڈی نہ تھیں کیونکہ لونڈی غلام وہ ہوتا ہے جو کفرو اسلام کی جنگ میں کافر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور مسلمان اسے غلام بنالیں۔اس زمانہ میں نہ کفرو اسلام کی جنگ ہوئی تھی نہ آپ کسی مسلمان کے ہاں گرفتار ہو کر لونڈی بنائی گئی تھیں،آپ شہزادی تھیں اس کے ہاں مظلومہ قیدی تھیں، آپ کی عصمت الله تعالٰی نے محفوظ رکھی تھی سارہ کی طرح کیونکہ سارہ حضرت اسحاق کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع