30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء علیھم الصلوۃ و السلام
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر ۱؎
۱؎ اس باب میں دو چیزیں بیان ہوں گی: ایک یہ کہ مخلوق کی پیدائش کی ابتداء کیسے ہوئی،دوسرے یہ کہ دین و ملت کی ابتداءکس طرح ہوئی۔آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے عالم اجسام کی اصل پانی سے ہے کہ پانی ہی وہ چیز ہے جو ہر شکل اختیار کرلیتا ہے۔چنانچہ پانی لطیف ہوکر ہوا بنا،پھر ہوا گرم ہوکر آگ بنی،آگ کا دھواں جم کر آسمان بنا،قرآن مجید میں آسمان کو دھواں فرمایا گیا ہے،اس پانی کے جھاگ جم کر زمین بنے،اس زمین کا کچھ حصہ سخت کرکے پہاڑ بنادیئے گئے،پھر پہاڑ زمین پر لنگر کی طرح قائم کردیئے گئے تاکہ زمین جنبش نہ کرے لہذا عالم اجسام کی اصل پانی ہے،رب فرماتاہے:"وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ"۔دوسری حدیث میں ہے کہ الله تھا اس کے ساتھ کچھ نہ تھا،سب سے پہلے لوح و قلم پیدا فرمائے،پھر عرش و کرسی،پھر آسمان و زمین جن و انس وغیرہ۔دوسری حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے الله تعالٰی نے نور محمدی بنایا،پھر اس نور سے سارا عالم بنا۔شیخ سعدی فرماتے ہیں
تو اصل وجود آمدی از نخست دگرہرچہ موجود شد فرع تست
|
5698 -[1] عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ قومٌ منْ بَني تميمٍ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ» قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ» . قَالُوا: قَبِلْنَا جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ: «كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كلَّ شيءٍ» ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ ناقتَكَ فقدْ ذهبتْ فانطلقتُ أطلبُها وايمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھا کہ ناگاہ بنی تمیم کی ایک قوم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی حضور نے فرمایا بشارت قبول کرو اے بنی تمیم۲؎ وہ بولے آپ نے ہمیں بشارتیں تو دے دیں ہم کو تو کچھ دیجئے۳؎ پھر یمن کے کچھ لوگ آئے حضور نے فرمایا جب بنو تمیم بشارت قبول نہیں کرتے تو تم بشارت قبول کرو۴؎ وہ بولے ہم قبول کرتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ دینی علم سیکھیں اور آپ سے اس چیز کی ابتداء پوچھیں کہ کیا چیز تھی ۵؎ فرمایا الله تھا اور اس سے پہلے کچھ نہ تھا اس کا عرش پانی پر تھا ۶؎ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی۷؎ پھر میرے پاس ایک شخص آیا بولا اے عمران اپنی اونٹنی پکڑو وہ بھاگ گئی۸؎ تو میں اسے ڈھونڈنے چلا گیا اور الله کی قسم میری تمنا ہے کہ وہ چلی گئی ہوتی اور میں وہاں سے نہ اٹھتا ۹؎ (بخاری) |
۱؎ یہ وہ صحابی ہیں جو تیس سال بیماری سے بستر پر رہے،فرشتوں سے ملاقات کرتے تھے فرشتے انہیں سلام کرتے تھے، آپ کے بقیہ حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں۔
۲؎ یعنی اے بنی تمیم تم مجھ سے عقائد و اعمال سیکھو اور اس پر آئندہ جزاء خیر کی بشارت لو لہذا حدیث واضح ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع