30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5216 -[62] وَعَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ أَلا وَإِن الآحرة أَجَلٌ صَادِقٌ وَيَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شرا يره» . للشَّافِعِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ نے خطبہ میں فرمایا آگاہ رہو کہ دنیا موجودہ سامان ۱؎ ہے جس سے نیک و بد سب کھاتے ہیں،آگاہ رہو کہ آخرت سچی معیاد ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے گا ۲؎ خبردار کہ ساری خوبیاں اپنے کناروں سمیت جنت میں ہیں،آگاہ رہو کہ پوری مصیبت کناروں سمیت آگ میں ہے ۳؎ خبر دار کہ تم الله سے ڈرتے ہوئے عمل کیا کرو ۴؎ اور جان رکھو کہ تم اپنے اعمال پر پیش کیے جاؤگے ۵؎ تو جو ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۶؎ (شافعی) |
۱؎ عرض فانی سامان کو کہتے ہیں جو باقی نہ رہے۔دنیا کا مال رب تعالٰی کی رضا کی علامت نہیں،یہ مردودوں کو بھی مل جاتا ہے،ہاں دنیا میں توفیق خیر مل جانا رضا الٰہی کی دلیل ہے۔
۲؎ آخرت یعنی موت و قیامت کا وقت مقرر ہے،قیامت میں حاکم صرف الله تعالٰی ہی ہوگا،تمام بادشاہوں اور حکام کی حکومتیں ختم ہوچکی ہوں گی۔
۳؎ یعنی دنیا کی راحتیں تکالیف سے محفوظ ہیں اور یہاں کی تکالیف میں بھی کچھ راحتوں کو آمیزش ہے آخرت کی راحت تو خالص ہیں اور وہاں کی مصیبتیں ہیں تو وہ بھی خالص۔
۴؎یعنی نیک اعمال کرتے رہواور ساتھ ہی رب تعالٰی سے ڈرتے رہو کہ نہ معلوم یہ عمل قبول ہوں یا نہ ہوں۔مؤمن کا کام ہے کہ عمل کرنا اور ڈرنا، غافل منافق کا کام ہے کہ نہ کرنا اور اکڑنا۔
۵؎ اس عبارت میں قلب ہے۔مقصد یہ ہے کہ تم پر تمہارے اعمال پیش ہوں گے مگر فرمایا کہ تم اعمال پر پیش ہوگے جیسے کہا جاتا ہے عرضت الحوض علی الناقۃ میں نے حوض کو اونٹنی پر پیش کیا حالانکہ اونٹنی حوض کے سامنے کی جاتی ہے،اردو میں کہا جاتا ہے کہ گجرات آگیا حالانکہ گجرات تو اپنی جگہ پر رہا ہم گجرات میں آ گئےایسے ہی یہ ہے۔
۶؎ ذرہ سے مراد یا توریت کا ذرہ ہے یا چھوٹی چیونٹی۔اس آیت کریمہ کی تحقیق یہ ہے کہ من سے مراد یا تو صرف مسلمان ہیں اور خیر سے مراد وہ نیکی ہے جو ضبط نہ ہوچکی ہو اور شر سے مراد وہ گناہ ہے جو معاف نہ ہوچکا ہو اور دیکھنے سے مراد اس کی سزا و جز ا بھگتنا یعنی اے مسلمان تجھ کو ذرہ بھر نیکی کی جزا ء اور ذرہ بھر گناہ کی سزا ملے گی بشرطیکہ نیکی ضبط نہ ہوئی ہو گناہ معاف نہ ہوا ہو،یا من سے مراد ہر انسان ہے مؤمن ہو یا کافر اور د یکھنے سے مراد ہے اپنے اعمال کو آنکھ سے دیکھ لینا سزا جزا ہو یا نہ ہو یعنی ہر انسان اپنے ہر عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ مؤمن کو اس کے گناہ دکھا کر معاف کیے جائیں گے،کافر کو اس کی نیکیاں دکھا کر ضبط کی جائیں گی لہذا یہ آیت نہ معافی کی آیات و احادیث کے خلاف ہے نہ ضبطی اعمال کی آیات کے خلاف۔
|
5217 -[63] وَعَنْ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول:«يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ وَإِنَّ الْآخِرَةَ وَعْدٌ صَادِقٌ يَحْكُمُ فِيهَا مَلِكٌ عَادِلٌ قَادِرٌ يُحِقُّ فِيهَا الْحَقَّ وَيُبْطِلُ الْبَاطِلَ كُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كل أم يتبعهَا وَلَدهَا» |
روایت ہے حضرت شداد سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے لوگو دنیا موجودہ سامان ہے ۱؎ جس سے نیک و بد لوگ کھاتے ہیں ۲؎ اور آخرت سچا وعدہ ہے جس میں انصاف والا قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا اس دن سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دکھائے گا ۳؎ تم آخرت کی اولاد بنو اور دنیا کی اولاد میں سے نہ بنو کیونکہ ہر بچہ اپنی ماں کے پیچھے ہوگا ۴؎ |
۱؎ قرآن مجید میں دنیا کو متاع فرمایا گیا ہے حدیث شریف میں عرض لیکن دونوں کے معنی ہیں سامان،چونکہ دنیا کو چھوڑ کر انسان چلا جاتا ہے دوسرے آکر اسے برتتے ہیں اس لیے اسے متاع یا عرض کہتے ہیں۔زمین نے سب کو کھالیا زمین کو کسی نے نہ کھایا۔حاضر بمعنی نقد یعنی ادھار کا مقابل دنیاوی کام کرو تو زندگی میں اس کا نفع نقصان مل جاتا ہےمگر آخرت کے کام کی جزاو سزا بعد قیامت،یہ بڑا ہی ادھار ہے جو برزخ و قیامت گزار کر وصول ہوتا ہے ۔
۲؎ یعنی دنیا کے آرام و تکالیف اعمال کی سزا و جزا نہیں،اگر کبھی کسی نیکی سے دنیا مل جائے تو وہ اس کی جزا نہیں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع