30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5695 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ جَهَنَّمَ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العزَّةِ فِيهَا قدَمَه فينزَوي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنُهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ".وذكرَ حَدِيث أنسٍ: «حُفَّتِ الجنَّةُ بالمكارِه» فِي «كتاب الرقَاق» |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا ۱؎ اور وہ کہتی رہے گی کیا اور زیادتی بھی ہے۲؎ حتی کہ اللہ تعالٰی اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تب بعض بعض کی طرف سمٹ جاوے گا کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم بس بس۳؎ اور جنت میں بچی ہوئی جگہ رہے گی حتی کہ اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا جنہیں جنت کے بچے ہوئے حصے میں رکھے گا ۴؎(مسلم،بخاری)اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ جنت مشقتوں سے گھیر دی گئی،کتاب الرقاق میں بیان کردی گئی۔ |
۱؎ اس میں جنات،انسان،چاند،سورج،اینٹ پتھر وغیرہ ڈالے جاتے رہیں گے مگر وہ بھرے گی نہیں۔
۲؎ بہ زبان قال کہتی رہے گی نہ کہ بہ زبان حال،ہر چیز میں زبان فہم وغیرہ سب کچھ ہے۔
۳؎ یعنی اب میں بالکل بھر گئی مجھ میں کسی چیز کی گنجائش نہیں نہ اب ہے نہ آئندہ ہوگی اب تجھ سے زیادتی کا مطالبہ نہیں کروں گی۔
۴؎ ابھی عرض کیا گیا کہ جنت بھرنے کے لیے ایک مخلوق پیدا کی جاوے گی مگر دوزخ بھرنے کے لیے کوئی مخلوق پیدا نہ کی جاوے گی کیونکہ بغیر عمل جنت مل سکتی ہے بغیر گناہ دوزخ میں نہیں ڈالا جاسکتا،یہ مخلوق انسان ہی ہوگی مگر حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے نہ ہوگی اور اس مخلوق کو جنت جزا یا ثواب کے لیے نہ ملے گی محض رب تعالٰی کے فضل سے عطا ہوگی۔اس مخلوق کو حوریں عطا نہ ہوں گی پھل فروٹ اور دوسری نعمتیں دی جاویں گی۔
شرعی معمہ: وہ کون سے انسان ہیں جو آدم علیہ السلام کی اولاد نہیں؟
جواب: وہ یہ ہی مخلوق ہےجو جنت پر کرنے کے لیے پیدا کی جاوے گی کہ یہ انسان تو ہوگی مگر اولاد آدم علیہ السلام نہیں جیسے،حضرت حواء ا نسان ہے مگر حضرت آدم کی اولاد نہیں،نیز خود آدم علیہ السلام انسان ہیں مگر اولاد آدم نہیں،مرقات نے فرمایا کہ جنت عمل پر موقوف نہیں۔
|
5696 -[3] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ثُمَّ حَفَّهَا بالمكارِه ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ". قَالَ: " فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فنظرَ إِليها فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب اللہ تعالٰی نے جنت پیدا کی تو حضرت جبریل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اسے دیکھو وہ گئے اسے اور جو نعمتیں اس میں جنتیوں کے لیے اللہ نے تیار کی ہیں انہیں دیکھا پھر آئے ۱؎ عرض کیا یا رب تیری عزت کی قسم نہ سنے گا اسے کوئی مگر اس میں داخل ہوگا۲؎ پھر رب نے اسے مشقتوں سے گھیر دیا۳؎ پھر فرمایا اے جبریل جاؤ اسے دیکھ کر آؤ،فرمایا تو وہ گئے اسے دیکھا۴؎ پھر آئے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ جنت میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا ۵؎ فرمایا پھر جب اللہ نے آگ پیدا کی تو فرمایا اے جبرئیل جاؤ اسے دیکھو، فرمایا وہ گئے اسے دیکھا پھر آئے ۶؎ عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم اسے کوئی نہ سنے گا کہ پھر اس میں داخل بھی ہو۷؎ رب نے اسے لذتوں سے گھیر دیا ۸؎ پھر فرمایا اے جبریل اسے دیکھو فرمایا وہ گئے اسے دیکھا عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہوئے بغیر نہ بچے گا ۹؎(ترمذی،ابوداؤ د،نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع