30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یہاں قعر سے مراد زنجیر کا دوسرا کنارہ ہے نہ کہ گہرائی کیونکہ زنجیر میں گہرائی کہاں یعنی اگر وہ زنجیر دوزخ کے کنارہ سے اس کی تہہ تک لٹکائی جائے تو اس کی درازی کا یہ حال ہوگا کہ یہ سیسہ اس کنارہ سے پھینکا ہوا دوسرے کنارہ تک چالیس سال میں نہ پہنچ سکے اس زنجیر سے کفار کو جکڑا جائے گا اندازہ لگالو کہ وہ جکڑ اور پکڑ کیسی ہوگی۔
|
5689 -[25] وَعَن أبي بُردةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ يسكنُه كلُّ جبَّارٍ " رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دوزخ میں ایک جنگل ہے جسے ہبہب کہا جاتا ہے اس میں ہر ظالم سرکش رہے گا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ آپ کا نام حارث ہے،کنیت ابو بردہ،آپ کے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری مشہور صحابی ہیں،آپ تابعی ہیں،ابو موسیٰ اشعری علی مرتضی وغیرہم صحابہ سے روایت کرتے ہیں،کوفہ کے قاضی تھے، ۱۰۴ ایک سو چار ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲؎ ہبہب بروزن جعفر بمعنی تیزی،جلدی،چمک۔چونکہ وہاں کی آگ بہت تیز ہے اور اپنے مجرموں کو یہ جگہ بہت جلد پکڑ ے گی اس لیے اسے ہبہب کہا جاتا ہے۔وہاں نہایت ذلت و خواری سے مجرموں کو رکھا جائے گا اسی لیے وہ جگہ متکبر کفار کی ہے۔
|
5690 -[26] عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سبعمائةِ عامٍ وإِنَّ غِلَظَ جلدِه سَبْعُونَ ذراعان وَإِن ضرسه مثل أحد» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دوزخی دوزخ میں بڑے ہوجائیں گے حتی کہ ان میں سے ہر ایک کی گدیاسے لے کر اس کے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہوجاوے گا ۱؎ اور اس کی کھال کی موٹائی ستر گز ہوگی اور اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ کی طرح۲؎ |
۱؎ جب کان کی لو اور کندھے کے درمیان کا فاصلہ ا تنا ہے تو باقی جسم کتنا ہوگا اندازہ لگالو۔خیال رہے کہ اس قد کے متعلق روایات مختلف ہیں جن میں مختلف قد بیان فرمائے گئے ہیں یا تو یہ سب اندازًا ہے سمجھانے کے لیے یا بعض کفار کے قد کتنے بعض کے کتنے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔واقعی ان کی کھال ڈاڑھ اتنی ہی موٹی اور بڑی ہوگی۔رسول اللہ سچے ہیں ان کی زبان پر غلط بات آسکتی ہی نہیں۔
|
5691 -[27] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُؤْكَفَةِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُمَا أَحْمد |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جز سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آگ میں تو سانپ ہیں اونٹنی کی طرح ۲؎ ان میں سے ایک ڈسے گا ایک بار ڈسنا کہ وہ دوزخی اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۳؎ اور آگ میں بچھو ہیں پالان والے خچروں کی طرح ان میں سے ایک ڈنگ مارے گا ایک ڈنگ تو وہ اس کا زہر چالیس سال تک پائے گا ۴؎(یہ دونوں حدیثیں احمد نے روایت فرمائیں) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع