30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5687 -[23] وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ» فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رجلَيْهِ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے تم کو آگ سے ڈرایا میں نے تم کو آگ سے ڈرایا ۱؎ آپ یہ فرماتے رہے حتی کہ اگر حضور میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے سن لیتے ۲؎ اور حتی کہ جو چادر آپ پر تھی وہ آپ کے پاس قدموں پر گر گئی ۳؎(دارمی) |
۱؎ یعنی میں نے تم کو بارہا دوزخ سے مختلف طریقوں سے ڈرایا کیونکہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے نذیر بھی تو ہوں میں نے اپنا یہ فرض ادا کردیا تم لوگ گواہ رہو۔
۲؎ یعنی حضور انور نے جوش میں اس قدر بلند آواز سے یہ کلمات فرمائے کہ اگر حضور انور آج یہاں قیام فرما کر وہ فرماتے تو بازار تک آپ کی آواز پہنچ جاتی۔
۳؎ یعنی جوش کے ساتھ آپ پر وجدانی حالت بھی طاری تھی اور آپ جنبش میں تھے جس کے اثر سے چادر مبارک کندھے شریف سے گر کر قدم مبارک پر آگئی۔یہ حدیث صوفیاء کرام کے وجد کی دلیل ہے وجدان شوق اور ذوق خوف ہرچیز سے آسکتا ہے۔
|
5688 -[24] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أنْ تبلع أَصْلهَا أَو قعرها» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر اس جیسی رانگ کھوپڑی کی طرف اشارہ فرمایا ۲؎ آسمان سے زمین کی طرف گرائی جاوے حالانکہ یہ فاصلہ پانچ سو سال کا ہے تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جاوے اور اگر وہ ہی رانگا زنجیر کے سرے سے۳؎ گرایا جاوے تو چالیس دن رات چلے اس کی جڑ یا اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ۴؎(ترمذی) |
۱؎ عبداللہ بھی صحابی ہیں اور آپ کے والد عمرو بھی صحابی مگر دادا عاص ابن وائل کافر حضور انور کا سخت دشمن تھا،اس کا نام عاصی تھا عاص کے ساتھ مشہور ہوگیا۔عاص ی کو گرا کر بہت دفعہ آخری ی دور کردی جاتی ہے جیسے باقی سے باقٍ،متعالٰی متعالٍ، مھتدی سے مھتدٍ۔(مرقات) بعض محدثین نے فرمایا کہ عاص اجوف واوی یا اجوف یائی ہے اس کی جمع اعیاص ہے،قاموس نے کہا الاعیاص میں قریش اولاد امیہ ابن عبدالشمس اس صورت میں اس کے آخر میں ی ہو ہی نہیں سکتی۔(مرقات)
۲؎ رصاص ر کے فتحہ سے بمعنی رانگ یا سیسہ،بعض لوگوں نے رضاض ض سے پڑھا بمعنی کنکریٹ مگر یہ غلط ہے۔مقصد یہ ہے کہ انسانی کھوپڑی کی برابر رانگایا سیسہ آسمان سے پھینکو تو وہ رات کا چلا صبح سے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا۔چڑھنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے گرنے کی رفتار بہت ہی تیز جیسا کہ مشاہدہ ہے،آسمان پر چڑھنے کی مدت پانچ سو سال ہے گرنے کی مدت دس گھنٹے یا اس سے بھی کم،سادہ اشارہ میں مسئلہ سمجھادیا گیا ہے۔
۳؎ یہاں سلسلہ سے مراد زنجیر ہے جس میں کفار باندھے جائیں گے جس کی لمبائی دست قدرت کے لحاظ سے ستر ہاتھ ہے یعنی ہمارے ہاں نہیں،رب فرماتاہے"ثُمَّ فِیۡ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوۡنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوۡہُ"اس زنجیر کی لمبائی کا یہ حال ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع