30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5686 -[22] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قطعتْ مَا فِي بطونِهم فيقولونَ: ادْعوا خَزَنَةَ جهنمَ فيقولونَ: أَلمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالُوا: فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ " قَالَ: " فيقولونَ: ادْعوا مَالِكًا فيقولونَ: يَا مالكُ ليَقْضِ علَينا ربُّكَ " قَالَ: «فيُجيبُهم إِنَّكم ماكِثونَ» . قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: " فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ " قَالَ: " فيُجيبُهم: اخْسَؤوا فِيهَا وَلَا تُكلمونِ " قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يرفعونَ هَذَا الحديثَ. رَوَاهُ الترمذيُّ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں پر بھوک مسلط کی جاوے تو یہ بھوک سارے عذابوں کے برابر ہوجاوے گی ۱؎ جن میں وہ مبتلا ہیں وہ فریاد کریں گے تو وہ ضریع میں سے دیئے جائیں گے جو نہ موٹا کرے نہ بھوک سے نجات دے ۲؎ پھر وہ کھانا مانگیں گے تو انہیں گالنے والا کھانا دیا جاوے گا۳؎ تو انہیں یاد آوے گا کہ وہ دنیا میں کاہے پانی سے اتارتے تھے(نگلتے تھے)۴؎ چنانچہ وہ پانی مانگیں گے تو ان کی طرف کھولتا پانی پیش کیا جاوے گا لوہے کی سنڈاسیوں سے ۵؎ جب وہ ان کے منہ کے قریب ہوگا تو ان کے منہ بھون دے گا ۶؎ پھر جب انکے پیٹ میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹوں کی ہر چیز کاٹ ڈالے گا تو کہیں گے کہ دوزخ کے منتظمین کو پکارو ۷؎ مگر منتظمین کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلیلیں نہیں لائے عرض کریں گے ہاں کہیں گے تو پکارے جاؤ کافروں کی پکاریں ہیں ہی برباد ۸؎ پھرکہیں گے مالک کو پکارو کہیں گے اے مالک اب تو تمہارا رب ہمارا فیصلہ ہی کردے ۹؎ فرمایا وہ انہیں جواب دے گا تم یہاں ہی رہو گے،اعمش فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوزخیوں کی پکار اور مالک کے ان کو جواب دینے میں ایک ہزارسال کا فاصلہ ہوگا ۱۰؎ پھر کہیں گے اپنے رب کو پکارو کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ۱۱؎ تو کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے ۱۲؎ اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال اگر اب ہم کفر کی طرف لوٹ آئیں تو ہم ظالم ہیں۱۳؎ فرمایا کہ انہیں جواب دے گا پڑے رہو اس میں مجھ سے بات نہ کرو۱۴؎ فرمایا کہ اس وقت ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۱۵؎ اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۱۶؎ عبداللہ ا بن عبدالرحمان نے فرمایا کہ لوگ اس حد یث کو مرفوع نہیں کرتے۱۷؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی دوزخیوں پر اس شدت کی بھوک مسلط کی جاوے گی کہ اس کی تکلیف دوزخ کی باقی تکلیف کے برابر ہو جاوے گی،اس سے یہ لوگ غذا کے لیے بے تاب ہوجاویں گے۔بھوک وہ چیز ہے کہ دنیا میں بعض دفعہ بھوکی عورتوں نے اپنے بچے ذبح کرکے کھالیے ہیں۔رب پناہ د ے! اس بھوک کی وجہ سے انہیں جو بھی کھانے کے لیے دیا جائے گا بے تأمل اسے دوڑ کر لیں اور کھائیں گے کہ کسی طرح پیٹ بھرے۔
۲؎ ضریع عرب شریف میں ایک خار دار گھاس ہے جس کے کانٹے بھی خطرناک ہوتے ہیں اور وہ زہریلی بھی ہوتی ہے اسے جانور منہ نہیں لگاتے بلکہ جس زمین میں وہ ہو جانور ڈر کے مارے چرتے بھی نہیں وہاں ٹھہرتے بھی نہیں دوزخی پیٹ بھرنے کے لیے وہی کھائیں گے اور سخت تکلیف اٹھائیں گے مگر پیٹ اس سے بھی نہ بھرے گا۔
۳؎ اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ"یعنی کانٹوں والا کھانا یہ ہی ہے جو انہیں ضریع کے بعد دیا جاوے گا۔
۴؎ یعنی یہ کھانا جب نگلیں گے تو وہ ان کے حلق سے نہ اترے گا،پھنس جائے گا نہ اگل سکیں گے نہ نگل سکیں گے تب انہیں دنیا کا حال یاد آئے گا کہ ہم گلے میں اٹکا ہوا لقمہ پانی سے نگلتے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع