30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5684 -[20] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (وهم فِيهَا كَالِحُونَ)قَالَ:«تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسْطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تضرب سُرَّتَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا وہ دوزخی دوزخ میں منہ سکوڑے ہوں گے ۱؎ فرمایا اسے آ گ بھون دے گی تو اس کا اوپری ہونٹ سکڑ جاوے گا حتی کہ اس کے سر تک پہنچ جاوے گا اور اس کا نیچا ہونٹ لٹک جاوے گا حتی کہ اس کی ناف پر پڑے گا ۲؎ (ترمذی) |
۱؎ دوزخیوں کے منہ آگ میں جھلس کر سکڑ جائیں گے جس سے ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی کہ انہیں دیکھ کر ڈر لگے گا بھوت بنے ہوں گے۔
۲؎ غور کرو کہ اگر اوپر کا ہونٹ سر سے لگ جاوے نیچے کا ہونٹ لٹک جائے جس سے سارے دانت کھل جائیں تو شکل کیسی ڈراؤنی ہوگی،ہونٹ تو منہ کی زینت ہیں جن سے منہ حسین معلوم ہوتا ہے جب یہ ہی بگاڑ دیئے گئے تو آدمی بھوت چڑیل سے بدتر معلوم ہوگا۔
|
5685 -[21] وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا فَتَبَاكَوْا فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ فَتَقَرَّحَ الْعُيُونُ فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُزْجِيَتْ فِيهَا لجَرَتْ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اے لوگو روؤ اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف روؤ ۱؎ کیونکہ دوزخی لوگ روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر ایسے بہیں گے گویا وہ نالیاں ہیں ۲؎ کہ آنسو ختم ہوجائیں گے تو آنکھوں کو زخمی کردیں گے ۳؎ اگر کشتیاں اس میں بہائی جاویں تو بہہ جاویں ۴؎(شرح سنہ) |
۱؎ یعنی جیتے جی اپنے گناہوں کے ڈر،رب کے خوف،اس کی رحمت کے شوق ،اس کے حبیب کے عشق میں جتنا ہو سکے رولو ایسے رونے کا انجام ان شاءالله خوشی و شادمانی ہے۔ مولانا فرماتے ہیں شعر
از پس ہر گریہ آخر خندہ ایست مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست
خوف،شوق،ذوق کا رونا بڑا ہی لذیذ ہے انہیں آنسوؤ ں سے چمن ایمان کی آبیاری ہوتی ہے۔شعر
باش چوں دولاب دائم چشم تر تادرون صحن تو روید خضر
۲؎ کفار دنیا میں بے غم تھے وہاں غمگین ہوں گے،یہاں خوش تھے وہاں مغموم رہیں گے،یہاں ہنستے بہت تھے وہاں روئیں گے جس سے ان کے خساروں پر نالیاں بن جائیں گی۔
۳؎ پھر ان کی آنکھوں سے دو قسم کے خون جاری ہوں گے آنسو کی جگہ اور زخم چشم سے پھر اس رونے سے جو تکلیف ہوگی وہ بیان سے باہر ہے۔
۴؎ ازجیت بنا ہے ازجاء سے بمعنی چھوڑنا بہانا۔(مرقات،اشعہ)ازجیت یعنی دوزخیوں کی آنکھوں سے اتنا خون بہے گا کہ اس کے تالاب دریا بن جائیں گے کہ ان میں کشتیاں جاری ہوجاویں۔
|
5686 -[22] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قطعتْ مَا فِي بطونِهم فيقولونَ: ادْعوا خَزَنَةَ جهنمَ فيقولونَ: أَلمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالُوا: فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ " قَالَ: " فيقولونَ: ادْعوا مَالِكًا فيقولونَ: يَا مالكُ ليَقْضِ علَينا ربُّكَ " قَالَ: «فيُجيبُهم إِنَّكم ماكِثونَ» . قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: " فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ " قَالَ: " فيُجيبُهم: اخْسَؤوا فِيهَا وَلَا تُكلمونِ " قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يرفعونَ هَذَا الحديثَ. رَوَاهُ الترمذيُّ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دوزخیوں پر بھوک مسلط کی جاوے تو یہ بھوک سارے عذابوں کے برابر ہوجاوے گی ۱؎ جن میں وہ مبتلا ہیں وہ فریاد کریں گے تو وہ ضریع میں سے دیئے جائیں گے جو نہ موٹا کرے نہ بھوک سے نجات دے ۲؎ پھر وہ کھانا مانگیں گے تو انہیں گالنے والا کھانا دیا جاوے گا۳؎ تو انہیں یاد آوے گا کہ وہ دنیا میں کاہے پانی سے اتارتے تھے(نگلتے تھے)۴؎ چنانچہ وہ پانی مانگیں گے تو ان کی طرف کھولتا پانی پیش کیا جاوے گا لوہے کی سنڈاسیوں سے ۵؎ جب وہ ان کے منہ کے قریب ہوگا تو ان کے منہ بھون دے گا ۶؎ پھر جب انکے پیٹ میں داخل ہوگا تو ان کے پیٹوں کی ہر چیز کاٹ ڈالے گا تو کہیں گے کہ دوزخ کے منتظمین کو پکارو ۷؎ مگر منتظمین کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلیلیں نہیں لائے عرض کریں گے ہاں کہیں گے تو پکارے جاؤ کافروں کی پکاریں ہیں ہی برباد ۸؎ پھرکہیں گے مالک کو پکارو کہیں گے اے مالک اب تو تمہارا رب ہمارا فیصلہ ہی کردے ۹؎ فرمایا وہ انہیں جواب دے گا تم یہاں ہی رہو گے،اعمش فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ دوزخیوں کی پکار اور مالک کے ان کو جواب دینے میں ایک ہزارسال کا فاصلہ ہوگا ۱۰؎ پھر کہیں گے اپنے رب کو پکارو کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ۱۱؎ تو کہیں گے اے ہمارے رب ہماری بدنصیبی ہم پر غالب آگئی اور ہم گمراہ قوم تھے ۱۲؎ اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال اگر اب ہم کفر کی طرف لوٹ آئیں تو ہم ظالم ہیں۱۳؎ فرمایا کہ انہیں جواب دے گا پڑے رہو اس میں مجھ سے بات نہ کرو۱۴؎ فرمایا کہ اس وقت ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے۱۵؎ اور اس وقت ندامت اور خرابی کی پکار میں مشغول ہوں گے۱۶؎ عبداللہ ا بن عبدالرحمان نے فرمایا کہ لوگ اس حد یث کو مرفوع نہیں کرتے۱۷؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع