دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

دوستاں راکجا کنی محروم                                                                توکہ با دشمناں نظر داری

یہ حدیث احمد نے بھی روایت کی۔(مرقات)خیال رہے کہ ابو طالب کے ایمان کے متعلق علماء اہلِ سنت میں اختلاف ہے۔علامہ احمد دھلان رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہے اسنی المطالب فی ایمان ابی طالب وہاں ان کا ایمان ثابت فرمایا ہے۔صاحب تفسیر روح البیان نے فرمایا کہ وہ شرعًا مؤمن  نہ تھے کہ انہوں نے صراحۃً کلمہ نہ پڑھا مگر عنداللہ مؤمن  تھے،ان بزرگوں کے نزدیک ابو طالب کو یہ عذاب عارضی ہوگا جیسے بعض گنہگار مسلمانوں کو اور وہ اللہ تعالٰی کے اس لپ کے ذریعہ دوزخ سے نکالے جائیں گے جو شفاعتیں ختم ہوجانے پر رب تعالٰی دوزخیوں سے بھرا ہوا اپنا ایک لپ جنت میں ڈالے گا۔عام علماء فرماتے ہیں کہ ان کا ایمان ثابت نہیں۔خیال رہے کہ کوئی شخص ان پر زبان طعن دراز نہ کرے،وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بڑے ہی خدمت گزار ہیں،حضور کو اپنے ساتھ لے کر سونے والے،حضور کی خاطر کفار مکہ کے ہاتھوں بہت ہی دکھ درد سہنے والے،ممکن ہے کہ ان پر طعن کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دکھ ہو ہم اپنی فکر کریں کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔

5669 -[5]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النارِ صَبْغَةً ثمَّ يُقَال: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ:لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ. فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شدَّة قطّ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت کے دن عیش والے دنیا دار دوزخی کو لایا جاوے گا  اسے آگ میں ایک بار غوطہ دیا جاوے گا  ۱؎ پھر کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی کیا تجھ پر کبھی کوئی نعمت آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۲؎  اور دنیا میں سخت مصیبت زدہ جنتی کو لایا جاوے گا اسے جنت میں ایک غوطہ دیا جاوے گا ۳؎ پھر اس سے کہا جاوے گا اے انسان تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی وہ کہے گا یارب واللہ کبھی نہیں ۴؎ نہ مجھ پر کبھی تکلیف آئی نہ میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ۵؎(مسلم)

۱؎  یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا نہ کہ قبر میں کیونکہ دوزخ میں داخلہ اس وقت ہے قبر میں تو صرف دوزخ یا جنت کی کھڑکی کھل جاتی ہے۔

۲؎  پتہ لگا کہ دنیا کے عمر بھر کے عیش و آرام وہاں کے منٹ بھر کے ایک غوطہ پر بھول جائیں گے وہ تو بڑی سخت جگہ ہے دنیا میں کوئی خاص مصیبت پڑے تو سارے عیش فراموش ہوجاتے ہیں۔

۳؎  یا تو حوض کوثر میں یا وہاں کی ہوا اور دوسری نعمتوں میں۔غوطہ دیئے جانے سے مراد ہے وہاں کی ہوا کا جھونکا دینا وہاں داخل فرما کر اس کی تجلی دکھانا۔

۴؎  معلوم ہوا کہ وہاں کے عیش کی ایک جھلک وہاں کی ہوا کا ایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا،انسان کو چاہیے کہ اس طرف دل لگائے۔خیال رہے کہ یہ عرض معروض جھوٹ نہ ہوگی بلکہ واقعی وہ شخص ان مصیبتوں کو بھول ہی جاوے گا اس بنا پر یہ کہے گا۔

۵؎  اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے دنیا میں جو مصیبتیں دیکھیں وہ درحقیقت مصیبتیں ہی نہ تھیں کیونکہ ان کا انجام یہ نعمتیں تھیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ ان مصیبتوں کو بھول ہی گیا ان نعمتوں کی خوشی میں۔

5670 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكَنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي ".

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں اللہ تعالٰی قیامت کے دن ہلکے عذاب والے دوزخی سے کہے گا  ۱؎  اگر تیرے پاس ساری زمین کی چیزیں ہوتیں تو تو اس آگ سے بچنے کے لیے دے دیتا تو بندہ کہے گا ہاں پھر اللہ تعالٰی فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے آسان چیزطلب کی تھی جب کہ تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا ۲؎ کہ تو کسی چیز کو میرا شریک نہ مان تو میرا شریک ٹھہرانے کے سوا سے انکاری ہوگیا ۳؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن