دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۳؎ اس حدیث کی شرح اور محبت دنیا کے معنی اور یہ کہ محبت تمام دنیا کا سر کیوں ہے سب کچھ پہلے بیان ہو چکا۔محبت دنیا یہ ہے کہ انسان ہر ذریعہ سے دنیا حاصل کرتا ہے،ضرورت پڑے تو دین دنیا پر قربان کردے۔ظاہر ہے کہ ایسا آدمی حصول دنیا میں ہر گناہ کرلیتا ہے۔فرعون،شداد،نمرود، یزید جیسے لوگ محبت دنیا کیو جہ سے  بدترین گناہ کرگئے۔

۴؎ ذکر میں،حکم میں،درجہ میں عورتوں کومردوں سے پیچھے رکھو،انہیں امام نہ بناؤکہ انہیں جماعت کی اگلی صفوں میں کھڑا نہ کرو،انہیں بادشاہ یا حاکم نہ بناؤ،انہیں پیر یا مرشد بنا کر ان کی بیعت نہ کرو،  مرد بادشاہ ہیں،عورتیں وزیر۔ خیال رہے کہ جس درجہ کی عورت ہوگی اسی درجہ کا مرد بھی لیا جائے گا لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہم جیسے گنہگار حضرت عائشہ صدیقہ فاطمہ زہرا سے افضل ہیں۔عائشہ صدیقہ سے حضور افضل ہیں،فاطمہ زہرا سے علی مرتضیٰ افضل ہیں۔

۵؎ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ"اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ"،نیز قرآن کریم میں عورتوں کا ذکر مردوں کے بعد ہے"الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ"بلکہ اکثر جگہ مردوں کے ضمن میں عورتوں کا ذکر ہے جیسے "اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ"وغیرہ وغیرہ ۔خیال رہے کہ ملکہ بلقیس یمن کی بادشاہ تھی مگر کب،مسلمان ہونے سے پہلے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایمان لائی اور آپ کے نکاح میں آئی یمن کی بادشاہ نہ رہی آپ کی ماتحت ہوئی لہذا اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔کسی دین میں عورتوں کی امامت سلطنت جائز نہ تھی،از آدم علیہ السلام تا حضور صلی الله  علیہ وسلم کسی نبی کے دین میں عورتوں کویہ عہدے نہ دیئے گئے۔

۶؎ یہ کلام حب الدنیا رأس کل خطیئۃ حضرت نبی کریم علیہ السلام کا فرمان ہے یا راوی نے جناب کا کلام نقل فرمایا ہے یا حضور اقدس کا اپنا فرمان عالی ہے۔یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن ہے۔(مرقات)

5214 -[60]

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وسم: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَأما طول الأمل فيُنسي الْآخِرَةَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُم أَن لَا تَكُونُوا بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْآخِرَةِ وَلَا عَمَلَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے کہ جن چیزوں سے میں اپنی امت پر خوف کرتا ہوں ان میں زیادہ خوفناک نفسانی خواہش ہے اور لمبی امید ۱؎ لیکن نفسانی خواہش تو وہ حق سے روک دیتی ہے ۲؎ اور رہی دراز امید تو وہ آخرت کو بھلا دیتی ہے ۳؎ اور یہ دنیا کوچ کرکے جارہی ہے اور یہ آخرت کوچ کرکے آرہی ہے ۴؎ ان دونوں میں سے ہر ایک کے بچے ہیں ۵؎ اگر تم یہ کرسکو کہ دنیا کے بچے نہ بنو تو ایسا کرو کیونکہ تم آج عمل کی جگہ میں ہو جہاں حساب نہیں اور تم کل آخرت کے گھر میں ہو گےجہاں عمل نہ ہوگا ۶؎ (بیہقی شعب ایمان)

۱؎ یعنی جو دل چاہے وہ کرے قانون شرعی کا لحاظ نہ کرے اور یہ خیال کرنا کہ ابھی میری عمر بہت ہے جب مرنے لگوں گا تو نیک کام کرلوں گا یہ دونوں دھوکے ایسے ہیں جن میں عام لوگ گرفتارہیں۔نفس و شیطان گناہ جلدی کراتے ہیں،نیکیوں میں دیر لگواتے ہیں کہ ابھی عمر بہت ہے پھر کرلینا۔

۲؎ نفسانی خواہش سے وہ خواہشات مراد ہیں جو خلاف اسلام ہوں،جو ان کی پیروی کرے گا ظاہر ہے کہ وہ الله  و رسول کی اطاعت نہ کرے گا۔

۳؎ آخرت یاد آتی ہے جب کہ اپنی موت سامنے ہو۔انسان موت کو قریب سمجھ کر آخرت کی تیاری کرتا ہے،جب یہ خیال دل میں بیٹھ جاوے کہ ابھی سو دوسو سال مجھے موت آنی ہی نہیں تو وہ آخرت کی تیاری کیوں کرے گا لہذا یہ فرمان عالی بالکل برحق ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن