30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ نار اور نور دونوں کا مادہ ایک ہے،نار کی جمع نیران ہے اور نور کی جمع نیار یا اینار ہے۔نار کے معنی ہیں آگ،نور کے معنی ہیں روشنی۔ شریعت میں جہاں نار آتا ہے اس سے مراد دوزخ کی آگ ہوتی ہے،اہلِ نار سے مراد کفار ہوتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔گنہگار مسلمان اگرچہ کچھ دن دوزخ میں رہیں گے مگر وہ اہلِ نار نہیں کہے جاتے۔اہلِ خانہ وہ ہوتے ہیں جو گھر میں ہمیشہ رہیں چند روزہ مہمان اہل خانہ نہیں ہوتا ایسے ہی اہلِ نار وہ ہی ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہے۔
|
5665 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً قَالَ: «فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ» . وَفِيهَا: «عَلَيْهَا» و «كلهَا» بدل «عَلَيْهِنَّ» و «كُلهنَّ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہاری آگ دوزخ کی آگ کا سترواں جزو ہے ۱؎ عرض کیا گیا یارسول اللہ یہ ہی آگ کافی تھی ۲؎ فرمایا وہ آگ ان آگوں سے انہتر درجہ زیادہ تیز رکھی گئی ہے ہر درجہ اس آگ کی مثل ہے ۳؎(مسلم،بخاری)اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے تمہاری وہ آگ ہے جو انسان جلاتا ہے اور اس روایت میں علیہنّ اور کلھنّ کی عوض علیھا اور کلھا ہے ۴؎ |
۱؎ یعنی دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ سے ستر گنا ہے جیسے دنیا کی آگیں مختلف قسم کی گرم ہوتی ہیں گھاس پھوس کی آگ ہلکی ہوتی ہے،کیکر وغیرہ کی لکڑی کی آگ تیز ہوتی ہے،ویلڈنگ کی آگ بہت ہی سخت تیز ہوتی ہے جو لوہے تانبہ کو بھی گلا دیتی ہے یوں ہی وہ آگ یہاں کی اعلٰی سے اعلٰی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی۔
۲؎ یعنی یہ ہی دنیا کی آگ لوگوں کو جلا دینے کے لیے کافی تھی یہ ہی آگ جلا کر راکھ کر ڈالتی ہے۔
۳؎ جواب کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی آگ ضرورت پوری کرنے کے لیے ہے مگر وہ آگ سزا دینے کے لیے اس لیے اتنی سخت تیز رکھی گئی۔
۴؎ ان دونوں روایتوں میں فرق صرف ضمیروں کا ہے کہ اس روایت میں تمام ضمیریں واحد مؤنث کی ہیں اور اس روایت میں جمع مؤنث کی باقی مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ دوزخ کی آگ سے کوئی نسبت نہیں حضور انور کا یہ فرمان عالی سمجھانے کے لیے ہے کہ دنیا میں سخت تر چیز آگ ہی ہے۔
|
5666 -[2] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يجرُّونها» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دن دوزخ لائی جائے گی جس کی ۱؎ ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچیں گے ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع