30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5662 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابْن مَسْعُود فِي قَوْلِهِ: (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى) وَفِي قَوْلِهِ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى)وَفِي قَوْلِهِ: (رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى)قَالَ فِيهَا كُلِّهَا: رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى)قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: (لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى)قَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ 5663 -[9] وسُئل مَالك بن أَنسٍ عَن قَوْله تَعَالَى (إِلى ربِّها ناظرة) فَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ. فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلُهُ تَعَالَى:(كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبونَ)؟ قَالَ مَالِكٌ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكَفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ (كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبون)رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے رب کے اس فرمان کے بارے میں تو ہوا دو کمانوں کے فاصلہ یا اور زیادہ قریب ۱؎ اور رب کے اس فرمان کے بارے میں کہ نہیں جھٹلایا دل نے جو دیکھا اور رب کے اس قول کے بارے میں کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں فرمایا ان سب میں حضور نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے ۲؎(مسلم،بخاری)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا دل نے نہ جھٹلایا جو دیکھا فرمایا،رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو باریک ریشم کے جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کو بھر دیا تھا۳؎ ترمذی و بخاری کی روایت میں ہے رب کے اس فرمان کے متعلق بے شک ریشمی جوڑے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیا تھا اور بخاری کی روایت میں اس آیت کے متعلق ہے کہ بے شک اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں،فرمایا آپ نے باریک سبز ریشم دیکھا جس نے آسمان کا کنارہ بھر دیا تھا ۴؎ اورحضرت مالک ابن انس سے باری تعالٰی کے قول"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"کے متعلق پوچھا گیا کہا گیا کہ ایک قوم کہتی ہے کہ لوگ رب کے ثواب کو دیکھیں گے۵؎ امام مالک نے فرمایا جھوٹ کہا وہ اس فرمان باری سے جا رہے ہیں کہ خبردار وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے،امام مالک نے فرمایا ۶؎ کہ قیامت کے دن لوگ الله تعالٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے فرمایا اگر قیامت کے دن مؤمن اپنے رب کو نہ دیکھتے تو الله تعالٰی کفار کو حجاب سے عار نہ دلاتا ۷؎ اس نے فرمایا کہ وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۸؎(شرح سنہ) |
۱؎ قاب قوسین کے متعلق صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ دو کمانیں مل کر دائرہ بن جاتا ہے جس کے بیچ میں مرکز ہوتا ہے۔جب کسی سے معانقہ کیا جائے گلے لگایا جائے تو دونوں ہاتھوں کا دائرہ اس کی پیٹھ پر بناتے ہیں اور اسے گلے لگاتے ہیں،مصافحہ میں قدرے دور کی ملاقات ہوتی ہے مگر معانقہ میں اتصال کی ملاقات۔نور الٰہی رحمت الٰہی نے اس رات اپنے محبوب کو اپنی آغوش میں اس طرح لیا کہ رحمتِ خداوندی دائرہ تھی اور محبوب اس کا مرکز کہ ہر طرف رب کی رحمت،اس کا نور بیچ میں حضور مصطفی کا ظہور صلی الله علیہ و سلم۔
۲؎ یعنی ان آیات میں ساری ضمیریں حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف ہیں،وہ حضور سے قریب ہوئے انہیں حضور نے دیکھا وہ ہی دو کمانوں کے برابر ہوئے لیکن اس تفسیر میں مشکل یہ ہوگی کہ ان آیات میں ایک آیت ہے "فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"عبدہ کی ضمیر حضور کی طرف نہیں لوٹ سکتی کیونکہ حضور انور الله کے بندے ہیں نہ کہ جبریل علیہ السلام کے،وہ آیت بتارہی ہے کہ ساری ضمیریں اللہ تعالٰی کی طرف ہیں جیسے"عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی"میں بیان فرمایا ہم ابھی کچھ پہلے اس کی تحقیق کرچکے ہیں،نیز اس کی تحقیق ہماری کتاب شان حبیب الرحمن میں مطالعہ فرماؤ۔
۳؎ تحقیق یہ ہے کہ رفرف جمع ہے،اس کا واحد ہے رفرفۃ،دوسری جمع رفارف ہے۔اس کے لفظی معنی ہیں بستر، رب فرماتاہے: "مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍ"۔حضرت جبریل کے پر پھیلانے پر وسیع بستر محسوس ہوئے تھے،اس سے رفرف کا لفظ فرمایا،اب پرندے کے پر کو کہتے ہیں لباس کے جوڑے نرم کپڑے وغیرہ کو بھی رفرف کہتے ہیں،یہاں رفرف بمعنی سبز ہے کیونکہ ساتھ ہی حلہ فرمایا گیا ہے۔
۴؎ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دیدار الٰہی کے متعلق صحابہ کرام کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ معراج میں یا کبھی اور دیدار مطلقًا نہ ہوایہ قول حضرت عائشہ صدیقہ کا ہے۔دوسرا یہ کہ دل سے رب کو دیکھا نہ کہ آنکھوں سے یعنی بصیرت سے دیکھا بصارت سے نہیں،یہ قول حضرت ابن مسعود کی طرف منسوب ہے۔تیسرا یہ کہ حضور انور نے اپنی آنکھوں سے رب کا دیدار کیا،یہ آخری قول جمہور صحابہ کا ہے،حضرت ابن عباس سے یہ ہی مروی ہے وہ سورۂ والنجم کی آیات کی تفسیر میں یہ ہی فرماتے ہیں۔حضرت عبدالله ابن عمر پہلے اس دیدار کے منکر تھے بعد میں حضرت ابن عباس کے قول کی طرف رجوع فرمایا،حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ نے اس انکار کی کوئی دلیل نہیں دی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع