30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5661 -[7] وَعَن الشّعبِيّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مسروقٌ: فَدخلت على عَائِشَة فَقلت: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعَرِي قُلْتُ: رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ (لقد رأى من آيَات ربّه الْكُبْرَى)فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى)؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ |
روایت ہے حضرت شعبی سے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کعب سے عرفہ میں ملے تو ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیر کہی جس سے پہاڑ گونج گئے ۱؎ تب حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنی ہاشم ہیں۲؎ تب حضرت کعب نے فرمایا کہ الله تعالٰی نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمادیا تو موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام کیا۳؎ اور محمد مصطفی نے رب کو دوبار دیکھا ۴؎ مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے عرض کیا حضور نے اپنے رب کو دیکھا ۵؎ آپ بولیں تم نے ایسے بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۶؎ میں نے عرض کیا پھر میں نے یہ آیت پڑھی کہ حضور نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۷؎ آپ بولیں خیالات تمہیں کہاں لیے پھرتے ہیں وہ تو حضرت جبریل ہیں۸؎ جو تمہیں خبر دے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا یا جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس میں سے کچھ چھپایا ۹؎ یا حضور ان پانچ باتوں کو جانتے ہیں جن کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے بارش تو اس نے بڑا بہتان باندھا۱۰؎ لیکن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا ان کی اصلی صورت کبھی نہ دیکھی سواء دوبار کے ایک بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور دوسری بار محلہ اجیاد میں ان کے چھ سو پر تھے جنہوں کے کنارہ نے آسمان بند کردیئے تھے ۱۱؎ (ترمذی)اور مسلم،بخاری نے کچھ زیادتی اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی روایت میں ہے فرمایا میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا تو رب کا یہ قول کہاں پھر قریب ہوا پھر تو دو کمانوں کی بلکہ اس سے بھی قریب تر،آپ بولیں یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو حضور کے پاس مرد کی صورت میں آئے تھے۱۲؎ اور اس دفعہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے جو ان کی اپنی صورت ہے تو کنارہ آسمان بھردیئے۱۳؎ |
۱؎ یعنی نویں ذی الحجہ حج کے دن حضرت عبدالله ابن عباس کی ملاقات جناب کعب احبار سے ہوئی،حضرت ابن عباس نے کعب سے رب تعالٰی کے دیدار کے متعلق پوچھا تو حضرت کعب نے اس سوال پر اتنی بلند آواز سے الله اکبر کہا کہ پہاڑ گونج گئے،کعب نے یہ سوال بڑا ہی اہم سمجھا۔
۲؎ یعنی ہم اہل بیت نبوت ہیں ہم کوئی غلط یا ناممکن بات نہیں پوچھتے،نیز امت پر ہمارا احترام ضروری ہے اے کعب تم صرف تکبیر پر نہ ٹالو بلکہ جواب دو یا یہ کہ تم ہم سے جو چاہو پوچھو ان شاءالله ہم جواب دیں گے۔خیال رہے کہ حضرت کعب احبار تابعی ہیں،پہلے یہود کے بڑے عالم تھے،توریت شریف کے ماہر ہیں،حضرت ابن عباس نے یہ سوال ان سے اس لیے کیا تاکہ بذریعہ توریت ان سے تائید کرائیں۔
۳؎ موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار وادیٔ ایمن میں رب سے کلام کیا عطاءنبوت کے وقت اور دوسری بار کوہ طور پر،حضرت احبار نے یہ توریت شریف سے نقل کرکے بتایا۔(اشعہ)معلوم ہوا کہ حضور کے دیدار الٰہی کا ذکر توریت شریف میں بھی تھا۔خیال رہے کہ مرتین سے شخصی بار مراد نہیں بلکہ نوعی بار مراد ہے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام نے طور پر رب سے بارہا کلام کیا مگر یہ کلام تھا ایک ہی نوعیت کا اور وادیٔ ایمن میں عطاء نبوت کے وقت کلام کیا وہ دوسری نوعیت کا تھا۔
۴؎ یعنی دنیا میں رب سے بلاواسطہ کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصی صفت ہے اور معراج میں اللہ تعالٰی کو آنکھوں سے دیکھنا حضور کی خصوصی صفت ہے ورنہ حضور نے معراج میں رب تعالٰی کا دیداربھی باربار کیا اس سے کلام بھی بار بار کیا"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"۔
۵؎ غالبًا حضرت مسروق وہاں موجود تھے جہاں حضرت ابن عباس اور کعب احبار کی مذکورہ گفتگو ہوئی جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ حضور نے رب کو دیکھا آپ نے اس کی تصدیق حضرت عائشہ صدیقہ سے کرانی چاہی اس لیے یہ سوال کیا،مسروق تابعی ہیں امام شعبی کے استاذ۔
۶؎ یعنی تمہارے اس سوال سے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے بھلا حضور رب تعالٰی کو کیسے دیکھ سکتے ہیں۔خیال رہے کہ جناب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ جسمانی معراج کا انکار فرماتی ہیں پھر وہ دیدار الٰہی حضور کے لیے کیسے مان سکتی ہیں،یہ دیدار تو معراج کا ایک حصہ ہے یہ دونوں انکار ان کے اجتہاد سے ہیں انہیں دیدار اور معراج کی روایات نہیں پہنچیں۔یہ واقعات تو آپ کے حضور کی زوجیت میں آنے سے پہلے کے ہیں اس لیے آپ نے کوئی حدیث اس پر پیش نہیں کی صرف اپنا اجتہاد بیان فرمایا۔
۷؎ یعنی میں نے سورۂ والنجم کی وہ آیات پیش کیں جن میں یہ ہے"وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"صرف یہ آیت پیش نہ فرمائی صرف اس آیت سے ان کا منشا پورا نہ ہوتا کہ یہاں آیاتِ رب دیکھنے کا ذکر ہے نہ کہ رب کو دیکھنے کا۔(مرقات)
۸؎ سورۂ والنجم کی یہ آیات ہی بتارہی ہیں کہ یہاں حضرت جبریل مرادنہیں رب تعالٰی کا دیدار ہی مراد ہوسکتا ہے کہ آیتِ اولٰی یہ ہے "عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الْقُوٰی"اس شدید القوی سے مراد الله تعالٰی ہے کہ اس نے حضور کو قرآن سکھایا نہ کہ جبریل علیہ السلام نے "اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"آگے ہے"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"۔حضور صلی الله علیہ و سلم اللہ تعالٰی کے بندے ہیں نہ کہ حضرت جبریل علیہ السلام کے،جب کہ عبدہ کی ضمیر رب کی طرف ہے تو ساری ضمیریں اس کی طرف ہیں"ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی"سے لے کر "وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی"تک کی ساری ضمیریں شدید القوی کی طرف ہیں یعنی رب کی طرف اس آیت سے جسمانی معراج اور رب کا دیدار دونوں ہی ثابت ہیں۔ام المؤمنین نے ادھر توجہ نہ فرمائی اس لیے صحابہ نے آپ کی یہ تفسیر قبول نہ کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع