30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی اے صحابی رسول اور اہل بیت نبی آپ تو کہتے ہیں کہ حضور انور نے رب تعالٰی کوآنکھوں سے دیکھا مگر قرآن کریم یہ فرماتا ہے، آپ کا کلام قرآن مجید کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔خیال رہے کہ حضرت عکرمہ نے رؤیت بصر اور ادراک بصر میں فرق نہیں کیا آنکھ کا دیکھنا اور ہے آنکھ کا پانا یعنی اسے احاطہ کرنا گھیرنا کچھ اور۔ہم سمندر زمین، آسمان کو دیکھتے تو ہیں مگر ان کا احاطہ نہیں کرسکتے کہ یہ چیزیں کلی اتنی لمبی چوڑی ہیں،حضور کی آنکھوں نے رب تعالٰی کا دیدار کیا اس کا احاطہ نہیں کیا۔جنتی مؤمن رب کا دیدارکریں گے اس کا احاطہ نہیں کریں گے۔یا الابصار سے مراد دنیا کی آنکھ ہے یا اس سے مراد کفار کی آنکھیں ہیں غرضکہ اس آیت کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔
۵؎ یعنی لوگ خدا تعالٰی کو جب دیکھ سکتے ہیں جب وہ اپنی تجلی ان کی برداشت کے قابل فرمادے،اگر اپنی ذاتی تجلی فرمادے جیسا وہ ہے ویسا ظاہر ہو تو لوگ کیا اور چیزیں بھی فنا ہوجائیں۔خیال رہے کہ یہ گفتگو مؤمنین کے دیدار کے متعلق ہے،حضور انور نے تو عین ذات دیکھی جیسا رب ہے ویسا دیکھا،اگر وہ تجلی خدا ہے تو یہ دیدۂ مصطفی ہے صلی الله علیہ وسلم وہ سب کچھ جھیل سکتی ہے۔
|
5661 -[7] وَعَن الشّعبِيّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مسروقٌ: فَدخلت على عَائِشَة فَقلت: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعَرِي قُلْتُ: رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ (لقد رأى من آيَات ربّه الْكُبْرَى)فَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى)؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ |
روایت ہے حضرت شعبی سے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کعب سے عرفہ میں ملے تو ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیر کہی جس سے پہاڑ گونج گئے ۱؎ تب حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنی ہاشم ہیں۲؎ تب حضرت کعب نے فرمایا کہ الله تعالٰی نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمادیا تو موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام کیا۳؎ اور محمد مصطفی نے رب کو دوبار دیکھا ۴؎ مسروق کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عائشہ کے پاس گیا میں نے عرض کیا حضور نے اپنے رب کو دیکھا ۵؎ آپ بولیں تم نے ایسے بات کہی جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ۶؎ میں نے عرض کیا پھر میں نے یہ آیت پڑھی کہ حضور نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۷؎ آپ بولیں خیالات تمہیں کہاں لیے پھرتے ہیں وہ تو حضرت جبریل ہیں۸؎ جو تمہیں خبر دے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا یا جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس میں سے کچھ چھپایا ۹؎ یا حضور ان پانچ باتوں کو جانتے ہیں جن کے متعلق الله تعالٰی نے فرمایا کہ الله ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے بارش تو اس نے بڑا بہتان باندھا۱۰؎ لیکن آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا ان کی اصلی صورت کبھی نہ دیکھی سواء دوبار کے ایک بار سدرۃ المنتہی کے پاس اور دوسری بار محلہ اجیاد میں ان کے چھ سو پر تھے جنہوں کے کنارہ نے آسمان بند کردیئے تھے ۱۱؎ (ترمذی)اور مسلم،بخاری نے کچھ زیادتی اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی روایت میں ہے فرمایا میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا تو رب کا یہ قول کہاں پھر قریب ہوا پھر تو دو کمانوں کی بلکہ اس سے بھی قریب تر،آپ بولیں یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو حضور کے پاس مرد کی صورت میں آئے تھے۱۲؎ اور اس دفعہ آپ کے پاس اپنی اصلی صورت میں آئے جو ان کی اپنی صورت ہے تو کنارہ آسمان بھردیئے۱۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع