30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منکر ہیں اور دوسری قرأت ہے نورانی جیسے ربانی اور اراہ بمعنی ماضی ہے یعنی میں نے اسے دیکھا ہے،ایسا دیکھا ہے گویا اب بھی دیکھ رہا ہوں وہ نورانی ہے۔ فقیر کے نزدیک پہلی قرأت بھی دیدار الٰہی کی نفی نہیں کرتی۔وہ صاحب سوال کررہے تھے دنیا میں یعنی اس زمین پر رہتے ہوئے رب کے دیدار کے متعلق یارسول الله کیا آپ نے مدینہ میں رہتے ہوئے کبھی ان آنکھوں سے خدا کو دیکھا ہے،فرمایا وہ نور عظیم ہے میں ان آنکھوں سے اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں،یہ آنکھیں اس نور کی تاب نہیں لاتیں،حضور نے رب کا دیدار کیا ہے معراج کی رات،اس وقت آنکھ ہی دوسری تھی عالم ہی دوسرا تھا،معراج کی رات کا دیدار تو قرآنِ کریم سے ثابت ہے جیساکہ آگے بیان ہوگا۔ان شاء الله !
|
5660 -[6] وَعَن ابْن عَبَّاس: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى. . . . وَلَقَدْ رَآهُ نزلة أُخْرَى)قَالَ:رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ. قَالَ عِكْرِمَةُ قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ:(لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يدْرك الْأَبْصَار)؟ قَالَ: وَيحك إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ وَقَدْ رأى ربه مرَّتَيْنِ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے دل نے وہ نہیں جھٹلایا جو دیکھا ۱؎ اور بے شک اس کو دوسری بار دیکھا،فرمایا حضور نے رب کو اپنے دل سے دوبار دیکھا ۲؎ (مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا حضور محمد نے اپنے رب کو دیکھا۳؎ عکرمہ فرماتے ہیں میں نے کہا کیا الله تعالٰی یہ نہیں کہتا کہ اسے آنکھیں نہیں پاسکتی اور وہ آنکھوں کو پاتا ہے۴؎ فرمایا تم پر افسوس ہے یہ جب ہے جب رب اپنے خاص نور سے تجلی فرمائے جو اس کا ذاتی نور ہے۵؎ اور حضور نے یقینًا اپنے رب کو دو بار دیکھا۔ |
۱؎ یہ سورۂ نجم شریف کی آیت ہے جس میں معراج میں دیدار الٰہی کا اعلٰی درجہ کا ثبوت ہے،جس میں فرمایا گیا ہے کہ حضور نے رب کو آنکھوں سے دیکھا اور دل نے اس دیکھنے کو جھٹلایا نہیں بلکہ اس کی تصدیق کی،دیکھا آنکھ نے تصدیق کی دل نے، دل کی مدد سے آنکھ نے دیکھا،اگر دل آنکھ کو جھٹلا دے تو دل سچا ہوتا ہے آنکھ جھوٹی۔چلتی ریل میں آنکھ دیکھتی ہے کہ سامنے کے درخت بھاگ رہے ہیں مگر دل کہتا ہے کہ نہیں بلکہ ریل بھاگ رہی ہے، آنکھ جھوٹی ہوتی ہے دل سچا۔آیت میں فرمایا گیا کہ آنکھ نے رب کو دیکھا دل نے آنکھ کی تصدیق کی،تصدیق کرنے والا دیکھنے والے کا غیر ہوتا ہے۔
۲؎ اس فرمان میں ابن عباس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے معراج کی شب رب کو آنکھ سے دیکھا مگر دل کی مدد سے دیکھا،اس طرح کہ دیدار کے وقت دل ہوش میں رہا آنکھ کی تائید کرتا رہا جناب کلیم الله کی طرح دل پر غشی طاری نہ ہوگئی۔ مرتین کے معنی ہیں بار بار جیسے رب فرماتاہے:"ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ" یعنی حضور رب کی بارگاہ میں معراج کی رات بار بار حاضر ہوتے رہے اسے دیکھتے رہے،ایک بار تو ملاقات اول کے وقت اور نو بار نمازیں کم کرانے کے لیے۔حضرت ابن عباس کا مذہب یہ ہے کہ حضور انور نے رب کو آنکھوں دیکھا معراج میں، شیخ نے مدارج میں فرمایا کہ اس رات یا تو آنکھ دل میں تھی یا دل آنکھ میں لہذا چاہے یوں کہو کہ آنکھ سے دیکھا یا یوں کہو کہ دل سے دیکھا مطلب ایک ہی ہے۔(اشعہ)قریبًا سارے صحابہ کا یہ ہی قول ہے کہ حضور انور نے الله تعالٰی کو دیکھا سواء حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت انس کے وہ فرماتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔
۳؎ یعنی ترمذی کی روایت میں بفوادہ نہیں کہ دل سے دیکھا بلکہ یہ ہے کہ اپنے رب کو دیکھا یعنی آنکھ سے دیکھا اسی لیے حضرت عکرمہ نے وہ سوال کیا جو آگے آرہا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع