30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ جنتیوں کو رب کا دیدار حسب مراتب ہوگا کسی کو ہفتہ میں ایک بار،کسی کو روزانہ دوبار،کسی کو ہر وقت جیسے دنیا میں بعض لوگ ہر وقت عشقِ الٰہی میں محو رہتے ہیں بعض کبھی کبھی۔
۳؎ یہاں وجوہ سے مراد ذات ہیں اور ناظرہ سے مراد وہ تروتازگی ہے جو مؤمنوں پر نمودار ہوگی جب تک مؤمن رب کو دیکھیں گے کسی نعمت کی طرف التفات نہ کریں گے۔
|
5658 -[4] وَعَن أبي رزين الْعقيلِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «بَلَى» . قَالَ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: «يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ البدرِ مُخْلِيًا بِهِ؟» قَالَ: بَلَى. قَالَ: «فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله کیا قیامت کے دن سب اپنے رب کو خلوت میں دیکھیں گے ۱؎ فرمایا ہاں میں نے عرض کیا الله کی مخلوق میں اس کی نشانی کیا ہے فرمایا اے ابو رزین کیا تم سب چودھویں شب میں چاند کو خلوت میں نہیں دیکھتے،عرض کیا ہاں۲؎ فرمایا یہ تو الله کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے،الله تو بہت جلالت و عظمت والا ہے۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ قیامت کے دن سے مراد وہ ہی فیصلہ کا دن ہے کہ اس دن مسلمان رب تعالٰی کو بیک وقت دیکھیں گے مگر ہر ایک کو رب سے خلوت بھی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ یوم قیامت سے مراد جنت ہو جس کا فیصلہ قیامت میں ہوگا۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ خلوت اور جلوت دو ضدیں ہیں بیک وقت دونوں جمع کیسے ہوں گی۔سبحان الله! نہایت ہی قوی سوال ہے جس میں منطق کی جان موجود ہے۔
۲؎ سبحان الله! ایک مثال میں مسئلہ حل کردیا کہ بدر کو تمام دنیا اپنے اپنے گھر میں اکیلے بیٹھ کر دیکھے تو وہاں بندے کی خلوت ہے اور چاند کی طرف سے جلوت ۔خلوت جمع ہیں مگر دو طرف سے،بندے کی طرف سے خلوت ہوگی ،رب کی طرف سے جلوت۔شعر
جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوے اور فلسفیوں سے کھل نہ سکے
وہ بھید اک کملی والے نے سمجھا دیئے چند اشاروں میں
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ خالق کی صفات کو مخلوق کے ذریعے سمجھانا جائز ہے محض تمثیل ہے تشبیہ نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ"وہاں تشبیہ کی نفی ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
|
5659 -[5] عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ؟ قَالَ: «نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا کیا اپنے رب کو دیکھا فرمایا میں نے اسے دیکھا ہے نور والا ہے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس عبارت کی دو قر-أتیں ہیں: ایک تو نورٌ ر کی تنوین سے اور اَنّی حرف استفہام بمعنی کیف اور معنی یہ ہیں کہ رب تعالٰی عظیم الشان نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں،اس نور سے نگاہ خیرہ ہوجاتی ہے۔اس صورت میں یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جو دیدار کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع