30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی ان نعمتوں کے علاوہ اور نعمت دوں یا تمہارے اعمال کی جزا سے زیادہ عطا کروں جو تمہارے کسی عمل کا بدلہ نہ ہو خاص میری عطا ہو یا تم کو وہ نعمت دوں جو ان سب سے زیادہ ہو سب سے افضل و اعلٰی ہو۔ازید کی تین شرحیں ہیں۔
۲؎ یعنی اے مولٰی ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان نعمتوں سے زیادہ ان سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوگی تو نے ہمارا منہ اجیالا کیا،تو نے ہم کو نعمتوں کے مرکز جنت میں داخل جہاں ہر قسم کی راحتیں ہیں،تو نے ہمیں دوزخ سے بچایا،تیرے نام پر ہماری جانیں فدا،اعلٰی حضرت نے فرمایا۔شعر
جملہ عالم بندۂ اکرام تو صد چو جان من فدائے نام تو
۳؎ وہ حجاب اٹھاوے گا جو طالب و مطلوب کے درمیان آڑ تھا اور وہ حجاب باقی رکھا جاوے گا جو دیدار کا ذریعہ ہے جسے رداء کبریائی کہتے ہیں جیسے سورج پر ہلکے پتلے بادل کا حجاب جو سورج کو دکھا دیتا ہے اگر یہ حجاب نہ ہو تو سورج پر نظر نہیں ٹھہرتی۔
۴؎ دیداریار کی بہار یا تو مصری عورتوں سے پوچھو جنہوں نے جمال یوسفی کی ایک جھلک سے مست ہو کر اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے یا جناب ابوبکر صدیق سے پوچھو جو جمال محمدی سے مست ہو کر اپنا سب کچھ فدا کر بیٹھے،آج مخلوق کے حسن پر گردنیں کٹ جاتی ہیں تو خالق کا حسن کیسا ہوگا۔
۵؎ معلوم ہوا کہ زیادہ سے مراد دیدار الٰہی ہے،زیادہ کی تین شرحیں ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئیں۔یہ نعمت سب سے زیادہ ہے بقیہ نعمتوں میں عدل کا ظہور ہے،اس میں فضل کی جلوہ گری۔اس پوری حدیث کی شرح میں صوفیاء فرماتے ہیں کہ صفات ذات کا پردہ بھی ہیں اور ذات کو دکھانے والی بھی یہاں جسم کو رنگت کے پردہ میں دیکھا جاتا ہے،اگر رنگ نہ ہو تو جسم نظر نہ آے،الله تعالٰی ذات کا حجاب تو اٹھاوے گا مگر صفات کی چلمن میں ذات کا دیدار کرائے گا۔(اشعہ)دنیا میں رب نے ہم کو اپنا دیدار کرایا مگر رخسار یار میں یعنی جمال محمدی میں وہ بے صورت اسی صورت میں نظر آتا ہے،حضرت اعلٰی فاضل گولڑوی نے فرمایا۔شعر
ایہہ صورت ہے بے صورت دی بے صورت ظاہر صورت تھیں
پر کام نہیں بے سوجھت دا کوئی ورلیاں موتی لے تریں
|
5657 -[3] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً» ثُمَّ قَرَأَ (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى ربّها ناظرة) رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنتیوں میں ادنی درجے والا وہ ہوگا جو اپنے باغات اپنی بیویوں اپنی نعمتیں اپنے خدام کو اور اپنے تختوں کو ایک ہزار سال کے پھیلاوے میں دیکھے گا ۱؎ اور الله کے نزدیک بڑی عزت والا ہوگا وہ جو صبح شام اس کی ذات کے نظارے کرے۲؎ پھر تلاوت فرمائی بعض چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھنے والے۳؎(احمد،ترمذی) |
۱؎ یعنی ادنی جنتی کا اپنا رقبہ اور اس رقبہ میں اپنا سامان پھیلا ہوا اتنا وسیع ہوگا کہ اس کنارے سے اس کنارہ تک انسان ایک ہزار سال میں پہنچے۔یہ تو ادنی درجے کے جنتی کا رقبہ ہے تو سوچو کہ اعلٰی درجے کا جنتی کا رقبہ کتنا ہوگا،پھر غور کرو کہ جنت کیسی وسیع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع