30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی جیسے دنیا میں بحر سے نہریں نکلتی ہیں ایسے ہی وہاں جنت میں پانی،دودھ،شراب طہور اور شہد کے الگ الگ دریا ہیں جو ان چیزوں کا مرکز یا خزانہ ہیں۔وہاں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جو ہرجنتی کے گھروں میں پہنچتی ہیں جیسے دہلی کے لال قلعہ میں جمنا تک نہریں لائی گئی ہیں،جو وہاں کے کمروں میں پہنچتی ہیں،جن کا فرش اور دیواریں سنگ مرمر کی ہیں،بحر اور نہر میں بہت فرق ہیں جو ہم نے اپنی تفسیر میں عرض کیے ہیں"تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ "کے ماتحت۔خیال رہے کہ اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے"فِیۡہَاۤ اَنْہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ وَ اَنْہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی"وہ آیت اسی کی تائید ہے۔
|
5652 -[41] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ مَسْنَدًا قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَةٌ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بينَ المشرقِ والمغربِ فتسلِّمُ عَلَيْهِ فيردُّ السلامَ وَيَسْأَلُهَا: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ وإِنَّ عَلَيْهَا من التيجان أَن أدنىلؤلؤة مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ". رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ جنت کا ایک شخص جنت میں ستر مسندوں پر تکیہ لگائے ہوگا ۱؎ اس کے کروٹ لینے سے پہلے ۲؎ پھر اس کے پاس ایک عورت آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے گی۳؎ یہ شخص اس کے رخسار میں اپنا منہ دیکھے گا آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا۴؎ اس پر ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکادے گا وہ اسے سلام کرے گی یہ اس کاجواب دے گا اور اس سے پوچھے گا تو کون ہے وہ کہے گی میں زائد نعمتوں سے ہوں ۵؎ اس پر ستر جوڑے ہوں گے جنہیں اس کی نظر آر پار کرجاوے گی حتی کہ اس کی پنڈلی کی مینگ ان کے اوپر سے دیکھے گا ۶؎ اس عورت پر ایسے تاج ہوں گے کہ ان کا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دے گا ۷؎(احمد) |
۱؎ یہ حدیث ترمذی نے حکیم ابن معاویہ سے روایت کی اور راوی نے معاویہ ابن ابوسفیان سے احمد نے معاویہ ابن عبدہ سے۔(مرقات)
۲؎ یعنی جنت میں نیند نہیں بیٹھنا،لیٹنا چلنا،پھرنا آرام کرنا سب کچھ ہوگا۔مطلب یہ ہے کہ مؤمن اپنے پلنگ پر جب بیٹھے گا تو اس کے نیچے اوپر تلے ستر۷۰ مسندیں تکیوں کی طرح ہوں گی،یہ حالت تو لیٹنے اور کروٹ لینے سے پہلے ہوگی پھر اس کا لیٹنا کروٹ لینا کیسے بستروں پر ہوگا وہ تو رب ہی جانتا ہے،اشعہ اور لمعات میں اس کا یہی مطلب بیان کیا۔مرقات نے فرمایا کہ یہ ستر۷۰ مسندیں آگے پیچھے بچھائی جائیں گی رنگ برنگی کبھی کیسی کبھی کیسی۔
۳؎ یہ عورت اس کی بیوی ہوگی اور ہاتھ رکھنا اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوگا،یہ مار پیٹ لڑائی جھگڑے کی ضر ب نہ ہوگی۔
۴؎ یعنی جیسے تم دنیا میں آئینہ میں اپنا چہرہ صاف دیکھتے ہو ایسے ہی وہاں اس بیوی کے چہرہ میں اپنا چہرہ بلکہ ہر چیز صاف صاف دیکھوگے کہ اسکا چہرہ دنیاوی آئینہ سے زیادہ شفاف ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع