30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۰؎ یعنی الفاظ بازار سے یہ نہ سمجھنا کہ وہاں قیمتًا چیزیں ملیں گی،بازار کا وہ مطلب ہے جو حضور انور نے خود ارشاد فرمایا یہ چیزیں حضور ہی بیان کرسکتے ہیں دوسروں کو تو بیان کرنا بھی نہیں آتیں۔
۲۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں ہر امید صرف دل میں خیال آتے ہی پوری ہوجاوے گی،منہ سے بولنے کی بھی ضرورت نہ ہوا کرے گی،یہاں جو الله رسول چاہیں وہ ہم کریں،ان شاءالله عزوجل وہاں جو ہم چاہیں گے وہ رب کرے گا الله تعالٰی توفیق دے۔خیال رہے کہ لفظ روع کبھی گھبرانے کے معنی میں آتا ہے،کبھی خوش ہونا خوش کرنا،پسند آنے پسند کرنے کے معنی میں آتا ہے،یہاں بمعنی پسند آنا ہے۔(اشعۃ اللمعات)حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ اپنے زفاف کے متعلق فرماتی ہیں فلم یرعنی الا رسول الله صلی الله علیہ و سلم وہاں بھی روع کے معنی خوش کرنا ہیں۔
۲۲؎ اس حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ نے سارے صیغے جمع متکلم کے ارشاد فرمائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے اور سعید ابن مسیب کے بلکہ سارے صحابہ کے جنتی ہونے کا یقین ہے کیوں نہ ہو رب تعالٰی نے ان سے وعدہ فرمالیا ہے"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"حضور صلی الله علیہ و سلم نے انہیں بشارات دیں پھر شبہ یا دغدغہ کیسے ہو۔ مشکوک معاملہ تو ہمارا ہے الله تعالٰی ان حضرات صحابہ کے دامن سے ہم کو وابستہ کرکے یہ نعمتیں بخشے۔
۲۳؎ یعنی جب ہم اپنے گھروں کو واپس ہوں گے تو ہماری دنیا کی بیویاں اور حوریں دروازے پر ہمار استقبال کریں گی اور ہم سے یہ کہیں گی۔
۲۴؎ یعنی ہمارا یہ حسن و جمال اور اس کی زیادتی اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس قرب الٰہی کا نتیجہ ہے جو ہم کو خصوصی طور پر میسر ہوا یہ غازیہ اس قرب سے نصیب ہوا ہے۔
|
5648 -[38] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ»وَبِهَذَا الْإِسْنَاد قَالَ : «وَمَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ يُرَدُّونَ بَنِي ثَلَاثِينَ فِي الْجَنَّةِ لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ»وَ بِهَذَا الْإِسْنَاد قَالَ: «إِنَّ عليهمُ التيجانَ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ والمغربِ»وَبِهَذَا الإِسناد قَالَ : «الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يُشْتَهَى» وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ الْوَلَدَ كَانَ فِي سَاعَة وَلَكِن لَا يَشْتَهِي(قَول اسحاق لَيْسَ من الحَدِيث)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب. روى ابْن مَاجَه الرَّابِعَة والدارمي الْأَخِيرَة |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا ۱؎ جس کے اسّی ہزار خادم ہوں اور بہتر بیویاں ۲؎ اور اس کے لیے موتیوں زبرجد اور یاقوت کا خیمہ لگایا جاوے گا ۳؎ جیساکہ جابیہ اور صنعاء کے درمیان کا فاصلہ ہے۴؎ اور اسی اسناد سے ہے فرمایا جو جنتی چھوٹا یا بوڑھا مرجاوے گا وہ جنت میں تیس سال کا بنادیا جاوے گا،یہ لوگ اس عمر سے کبھی نہ زیادہ ہوں گے۵؎ اسی طرح آگ والے لوگ ۶؎ اور اسی اسناد سے ہے کہ فرمایا ان پر تاج ہوں گے جنکا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دےگا۷؎ اوراسی اسناد سے ہے فرمایا مؤمن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اس کا جننا اس کا عمر رسیدہ ہونا پل بھر میں ہوجاوے گا جیسا وہ چاہے ۸؎ اور کہا اسحاق ابن ابراہیم نے اس حدیث کے متعلق کہ جب مؤمن جنت میں اولاد چاہے گا تو ایک پل میں ہوجاوے گی مگر وہ چاہے گا نہیں۹؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن ماجہ نے چوتھی حدیث اور دارمی نے آخری حدیث نقل فرمائی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع