دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

۹؎  یعنی یہ ٹیلے والے یہ تو محسوس کریں گے کہ کرسیوں والے ہم سے اعلٰی ہیں مگر یہ احساس نہ کریں گے کہ ہم ان سے گھٹیا ہیں،ان سے اعلٰی ہونے پر انہیں خوشی ہوگی،جیسے آج حضور انور کی شان دیکھ کر ہم کو خوشی ہوتی ہے ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

۱۰؎  حضرت ابوہریرہ کو تعجب یہ ہوا کہ یہ آنکھیں رب کو کیسے دیکھ سکیں گی یہاں تو ہم سورج میں نظر نہیں جماسکتے۔ جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ تم دیدار الٰہی بغیر کیف کیا کرو گے اور خوب اچھی طرح کہ شک و شبہ نہ رہے جیسے دوپہری میں سورج اور چودھویں شب میں چاند میں شک نہیں ہوتا ایسے ہی وہاں دیدار میں شک نہ ہوا کرے گا۔خیال رہے کہ دنیا میں سورج بذریعہ دھوپ نظر آتا ہے اور چاند بغیر کسی ذریعہ کے مگر ہوتاہے دونوں پر یقین دونوں کا مشاہدہ۔

۱۱؎  محاضرۃ کے معنی ہیں منہ در منہ بغیر واسطہ کلام کرنا،رب تعالٰی جنتیوں سے کلام بھی کرے گا تو بالمشافہ بغیر واسطہ دیدار گفتار سب ایک ساتھ نصیب ہوا کرے گی۔

۱۲؎  کہ تو نے فلاں فلاں وقت فلاں فلاں گناہ کیے تھے،تجھے یاد ہیں یہ ذکر بطور تذکرہ ہوگا سرزنش یا ناراضی کے طریقہ پر نہیں۔اس ذکر سے بندہ کو مطلقًا رنج نہ ہوگا کہ جنت رنج کی جگہ نہیں۔

۱۳؎  سبحان الله! یہ بخشش ہی یاد دلائی تھی جس سے بندہ کی خوشی اور دوبالا ہوجاوے گی حضور کی شفاعت رب تعالٰی کی بخشش کی یاد دنیا میں بھی دل کا چین ہے وہاں بھی دل کا چین ہوگی،اعلٰی حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں۔شعر

اے کہ نامت راحت جاں ودلم                                       اے کہ فضل  تو کفیل مشکلم

۱۴؎  یعنی تو اپنے اعمال سے یہاں نہیں پہنچا بلکہ میرے رحم و کرم سے  یہاں پہنچا،کوئی شخص بغیر فضل رب العالمین کے جنت میں نہیں پہنچ سکتا۔

۱۵؎  یہ بادل رحمت خاص الله تعالٰی کی ہوگی جو بادل کی شکل میں نمودار ہوگی جیسے دنیا میں بادل چھا جائیں تو عجیب سماں بندھ جاتا ہے، موسم بدل جاتا ہے ایسے ہی وہاں اس بادل کے آتے ہی مجلس کی حالت بدل جاوے گی اور وہ سماں بندھے گا جو بیان نہیں ہو سکتا،الله تعالٰی دیکھنا نصیب فرمائے۔

۱۶؎  یعنی اس بادل سے پانی نہیں برسے گا عطر اور خوشبو برسے گی وہ بھی ایسی بے مثال کہ دنیا میں تو کیا اسے پہلے جنت میں بھی کبھی ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی۔

۱۷؎  یہ بازار یا تو وہ ہی ہوگا جس سے گزر کر ابھی یہ لوگ اس جہان میں پہنچے تھے یا دوسرا اور کوئی بازار۔یہاں نعمتوں کے ڈھیر ہوں گے جو انہیں بغیر قیمت عطا ہوں گے۔غرضکہ یہ فروخت کا نہیں بلکہ تقسیم اور عطاء کا بازار ہوگا کچھ نعمتیں گھروں میں ملیں گی خاص نعمتیں یہاں،تاکہ یہ لوگ خالی ہاتھ اپنے گھر نہ جائیں بھرے پھرے جائیں گے۔

۱۸؎  جن فرشتوں نے اس بازار کو گھیرا ہوگا وہ وہاں کے منتظم اور جنتیوں کی خدمت کرنے والے فرشتے ہوں گے۔جو شخص جس نعمت کی رغبت کرے گا وہ اسے اٹھاکر دیں گے بلکہ گھر تک پہنچائیں گے،ان نعمتوں کے نام ان کی خوبی بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں بنے ہمارے الفاظ تو آگرہ کا تاج محل دہلی کا لال قلعہ بیان نہیں کرسکتے تو ان نعمتوں کو بیان کیسے کرسکتے ہیں وہ دیکھ کر ہی معلوم ہوسکیں گی۔

۱۹؎  یحمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بازار کی یہ نعمتیں ہم کو یہاں ہی نہیں دی جائیں گی بلکہ یہ فرشتے جو اس بازار کو گھیرے ہوئے تھے وہ یہ سامان اٹھاکر ان کے گھر پہنچائیں گے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن