30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5647 -[36] وَعَن سعيد بن الْمسيب أَنه لقيَ أَبَا هريرةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَفِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ثُمَّ يُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيَبْرُزُ لَهُمْ عَرْشُهُ وَيَتَبَدَّى لَهُم فِي روضةٍ من رياضِ الجنَّة فَيُوضَع لَهُم مَنَابِر من نور ومنابرمن لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُم وَمَا فيهم دنيٌّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟» قُلْنَا: لَا. قَالَ: " كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فلَان ابْن فلَان أَتَذكر يَوْم قلت كَذَا وَكَذَا؟ فيذكِّره بِبَعْض غدارته فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَبِسِعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ. فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ وَيَقُولُ رَبُّنَا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ فِيهَا مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعِ الْآذَانُ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ". قَالَ: " فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَمَا فيهم دنيٌّ فيروعُه مَا يرى عَلَيْهِ من اللباسِ فِيمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ عَلَيْهِ مَا هُوَ أحسن مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ وہ حضرت ابو ہریرہ سے ہے تو جناب ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں الله تعالٰی سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے تمہیں جنت کے بازار میں ملائے ۱؎ تو جناب سعید نے کہا کہ اس میں بازار ہے۲؎ فرمایا ہاں مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خبر دی کہ جنت والے جب جنت میں داخل ہوں گے۳؎ تو وہاں اپنے اعمال کے مطابق داخل ہوں گے۴؎ پھر انہیں دنیا میں کے دنوں کے حساب سے ایک ہفتہ میں اجازت دے دی جاوے گی تو اپنی رب سے ملاقات کریں گے ۵؎ اور عرش الٰہی ان پر ہوگا ۶؎ اور رب ان پر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا۷؎ تو ان کے لیے نور کے منبر موتیوں کے منبر یاقوت کے اور زبرجد کے منبر سونے کے منبر چاندی کے منبر رکھے جائیں گے ۸؎ ان میں سے ادنی(حالانکہ ان میں ادنی کوئی نہیں)مشک و کافور کے ٹیلہ پر ہوں گے ۹؎ وہ یہ تصور نہ کریں گے کہ کرسیوں والے ان سے اعلٰی جگہ میں ہیں۱۰؎ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے فرمایا ہاں کیا تم سورج کے اور چودھویں شب میں چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو ہم نے کہا نہیں فرمایا ایسے تم اپنے رب کے دیکھنے میں شک نہ کرو گے ۱۱؎ اس مجلس میں کوئی باقی نہ رہے گا مگر الله تعالٰی اس کے سامنے بے حجاب موجود ہوگا۱۲؎ حتی کہ ان میں سے ایک شخص سے کہے اے فلاں کے بیٹے فلاں کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تو نے ایسا ایسا کہا تھا اسے اس کی بعض دنیاوی بدعہدیاں یاد دلائے گا۱۳؎ بندہ عرض کرے گا الٰہی کیا تو مجھے بخش نہ دے گا۱۴؎ فرمائے گا ہاں تو میری وسعت رحمت کی وجہ سے اپنے اس درجہ میں پہنچا تو جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر بادل چھا جائے گا ۱۵؎ تو ان پر ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو کبھی کسی چیز میں نہ پائی ہوگی۱۶؎ اور ہمارا رب فرمائے گا کہ اس اعزاز کی طرف جاؤ جو میں نے تمہارے لیے تیار کیا ہوا ہے جو چاہو لو ۱۷؎ تب ہم اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتوں نے گھیرا ہوگا اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل آنکھوں نے نہ دیکھی نہ کانوں نے سنی اور نہ دلوں پر انکا خطرہ گزرا ۱۸؎ تب ہم جو چاہیں گے ہم کو پہنچادیا جاوے گا۱۹؎ وہاں نہ تو خرید ہوگی نہ فروخت اور اس بازار میں بعض جنتی بعض سے ملیں گے ۲۰؎ فرمایا کہ ایک اونچے درجے والا آوے گا وہ اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا حالانکہ ان میں نیچا کوئی نہیں تو اس پر جو لباس یہ دیکھے گا وہ اسے پسند آوے گا ابھی اس کی آخری بات ختم نہ ہوگی کہ اسے اپنے پر اس سے اچھا محسوس ہوگا ۲۱؎ یہ اس لیے ہوگا کہ جنت میں کسی کا غمگین ہونا ممکن نہیں پھر ہم اپنے گھروں کی طرف لوٹیں گے تو ہم سے ہماری بیویاں ملیں گی کہیں گی۲۲؎ خوب آئے اپنے گھر میں پہنچے تو تم اس حالت میں آئے ہو کہ تمہارا حسن و جمال اس سے اچھا ہے جس پر تم ہم سے جدا ہوئے تھے۲۳؎ تب ہم کہیں گے کہ آج ہم نے اپنے رب جبار کے پاس ہم نشینی کی ہے ہمارا حق یہ ہی تھا کہ اس طرح لوٹیں مؤمنین جیسے لوٹے۲۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی جیسےآج ہم تم بازار مدینہ میں ملے ہیں ایسے ہی بازار جنت میں ملیں۔مدینہ منورہ اس دنیا کی جنت اور خلد اس دنیا کی بلکہ آج زمین مدینہ جنت سے افضل ہے کہ یہاں محبوب آرام فرما ہیں،اب حضور جنت میں تشریف لے جائیں گے تو وہ جگہ افضل ہوجائے گی جیسے ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ مدینہ منورہ سے افضل تھا اور ہجرت کے بعد امام مالک کے ہاں مدینہ منورہ مکہ معظمہ سے افضل ہوگیا اور قبر انور تو بالاتفاق سارے جہاں عرش و فرش سے افضل ہے افضیلت ان کے قدم سے وابستہ ہے۔شعر
خاک طیبہ از دو عالم خوشتر است اے خنک شہرے کہ دروے دلبر است
۲؎ حضرت سعید کو تو تعجب اس پر ہوا کہ جنتیوں کی ساری ضروریات تو ان کے گھروں میں ہی موجود ہوں گی پھر بازار سے کیا خریدیں گے وہ یہ نہ سمجھے کہ وہاں بازار دیدار کا ہے نہ کہ کاروبار کا وہاں جنتی ایک دوسرے کا اور رب کا دیدار کریں گے۔
۳؎ اس طرح کہ اعلٰی اعمال والے اونچے درجے میں ہوں گے اور معمولی اعمال والے نیچے درجہ میں۔غرضکہ جنت میں تفریق و تقسیم ہوگی اجتماع نہ ہوگا جیسے دنیا میں امیر لوگ کوٹھیوں میں رہتے ہیں فقیر جھونپڑیوں میں اگرچہ وہاں جھونپڑیاں کوئی نہیں بہرحال ایک جگہ اجتماع نہ ہوگا۔
۴؎ یعنی جیسے دنیا میں جمعہ کے دن سارے محلے بلکہ ساری بستی کےامیر وغریب شاہ وگدا مسلمان جامع مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں، رب کا ذکر کرتے ہیں،نماز جمعہ پڑھتے ہیں ایسے ہی جنت میں تمام ادنی و اعلٰی جنتی اس بازار میں ہفتہ میں ایک بار جمع ہو کر رب کا دیدار کیا کریں گے،دنیا میں جامع مسجد جامع المتفرقین ہوتی ہے ایسے ہی جنت یہ بازار جامع المتفرقین ہوگا،اسی بازار میں ہم جیسے گنہگار ان شاءالله شفیع روز شمار کی زیارت سے مشرف ہوا کریں گے،رب کا دیدار گھروں میں خلوت میں ہواکرے گا یہاں جلوت میں ہوگا۔
۵؎ یہ ظہور خصوصی ہوا کرے گا ورنہ عرش الٰہی تو جنت کی چھت ہے ہر وقت نظر آیا کرے گا مگر اس بازار میں بہت قریب سے نظر آوے گا،اس کے اور معنی بھی کیے گئے ہیں۔
۶؎ یعنی اس بازار میں ایک خصوصی باغ ہوگا جس میں رب کا دیدار ہوگا،یوں سمجھو کہ بازار میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوا کرے گی اور اس باغ میں رب تعالٰی سے۔
۷؎ منبر سے مراد کرسیاں ہیں جن پر جنتی بیٹھیں گے،چونکہ جنتی لوگ مختلف درجے والے ہوں گے اس لیے یہ کرسیاں بھی مختلف ہوں گی۔کتنی کرسیاں ہوں گی اتنی جتنی گنتی میں نہ آسکیں وہاں عدد کام نہیں کرتا۔
۸؎ ان ٹیلوں کا حسن ان کی ساخت،ان کی خوشبو انکی عظمت بیان نہیں ہوسکتی،ان شاءالله دیکھ کر ہی بتائیں گے کہ دیکھو وہ ٹیلے یہ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع