30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ معلوم ہوا کہ فخر و تکبر کے لیے حلال مال بھی جمع کرنا برا ہے تو حرام مال اس نیت سے جمع کرنا بدرجہا برا ہے کہ وہاں مال بھی حرام ہے نیت بھی حرام۔بہرحال مال میں تین چیزیں ہوں تو مال اچھی چیز ہے کمائی حلال، خرچ حلال اور نیت حلال۔
|
5208 -[54] وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ لِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ وَوَيْلٌ لَعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ خیر خزانے ہیں اور ان خزانوں کی کنجیاں ہیں ۱؎ تو خوشخبری ہو اس بندے کے لیے جسے الله تعالٰی نے خیر کی کنجی اور شر کا بند قفل بنایا۲؎ اور خرابی ہے اس بندے کی جسے الله نے شر کی کنجی اور خیر کا بند قفل بنایا ۳؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اچھے کام اور اچھی چیزیں بہت سی خوبیوں کے خزانے ہیں اور بعض انسان خزانوں کی چابیاں ہیں کہ وہ اچھے ہوجاویں تو دوسرے بھی اچھے ہوجاویں،اگر بادشاہ حکام،علماء مشائخ متقی ہوجاویں تو رعایا،شاگرد،مریدین خود بخود متقی بن جاویں۔الله تعالٰی ہمارے پاکستان کو متقی پرہیزگار مؤمن حکام نصیب کرے خود بخود دوسرے لوگ متقی بن جاویں گے الناس علی دین ملوکھم۔
۲؎ یعنی وہ شخص خوش نصیب ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو بھلائیاں نصیب ہوں اور ظلم و ستم بند ہوجاویں۔مال،علم بعض کے لیے قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، بعض کے لیے دوری کا باعث،قریبًا ہر چیز کا یہ ہی حال ہے قرب الٰہی کا ذریعہ ہوتو خیر ہے ورنہ شر۔
۳؎ یعنی بعض لوگ ایسے شر پر ہوتے ہیں کہ ان کے شر سے دوسرے محفوظ نہیں ہوتے وہ لوگ منحوس ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں کے زمانہ اقتدار میں برکت ہی برکت ہوجاتی ہے ملک آباد،لوگ خوشحال ہوجاتے ہیں،بعض کے برسر اقتدار آتے ہی برکتیں ختم ہوجاتی ہے۔
|
5209 -[55] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا لَمْ يُبَارَكْ لِلْعَبْدِ فِي مَالِهِ جَعَلَهُ فِي المَاء والطين» |
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندے کے مال میں بے برکتی دی جاتی ہے تو وہ مال کو پانی اور مٹی میں لگا دیتا ہے ۱؎ |
۱؎ ان جیسی احادیث کی شرح پہلے ہوچکی کہ ان میں بلا ضرورت عمارتیں بنانا ان کے گارے چونے میں پیسہ خرچ کرنا مراد ہے۔مطلب یہ ہے کہ جب الله تعالٰی کسی بندے کے مال میں بے برکتی ڈالنا چاہتا ہے تو اسے مکانات گرانے بنانے کا شوق دے دیتا ہے۔اسے الله و رسول کی راہ میں خرچ کرنے،حق والوں کے حق ادا کرنے کا خیال ہی نہیں آتا،وہ اس میں لگا رہتا ہے کہ یہ بگاڑو یہ بناؤ۔ضروری عمارات جیسے مسجد،ضرورت کے مکان و دکانیں اس حکم سے خارج ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ لاکھوں روپے کے خرچ سے بنائی،حضرت عثمان غنی نے مسجد نبوی پر بہت روپیہ خرچ کیا۔
|
5210 -[56] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اتَّقُوا الْحَرَامَ فِي الْبُنْيَانِ فَإِنَّهُ أَسَاسُ الْخَرَابِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان» |
روایت ہے ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمارات میں حرام سے بچو ۱؎ کیونکہ وہ ویرانی کی جڑ ہے ۲؎ انہیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع