دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5645 -[34]

وَعَن سَالم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَابُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَدْخُلُونَ مِنْهُ الْجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْمُجَوِّدِ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادُ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَقَالَ: خَالِد بن أبي بكر يروي الْمَنَاكِير

روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله  علیہ و سلم نے میری امت کا وہ دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوں گے اس کی چوڑائی تیز سوار کی رفتار سے تین سال کا ہے۲؎  پھر وہ اس پر تنگ ہوں گے حتی کہ قریب ہوگا کہ ان کے کندھے مل جاویں۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے۴؎  اور میں نے محمد ابن اسمعیل سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا،فرمایا یخلد ابن ابی بکر منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۵؎

۱؎ حضرت سالم جلیل القدر تابعی ہیں،سیدنا عبدالله ابن عمر کے فرزند ہیں اور حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کے پوتے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ سالم کے زمانہ میں ان سے بہتر کوئی نہ تھا نہایت حق گو،بے خوف،بڑے عالم عابد، زاہد،حجاج ابن یوسف علیہ السلام جیسے ظالم حاکم سے بہت سختی سے بات کرتے تھے،  ۱۰۶ھ؁  ایک سو چھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔(اشعہ و اکمال و مرقات وغیرہ ) آپ کی اکثر روایات اپنے والد حضرت عبدالله ابن عمر سے ہیں۔

۲؎   ظاہر یہ ہے کہ یہاں تین سے مراد تین سال ہیں نہ کہ تین دن حضور کی امت کے داخلہ کے بہت دروازے ہیں جن کی فراخی مختلف ہے،یہاں ایک دروازے کی فراخی کا ذکر ہے اور چالیس سال والی روایت میں دوسرے دروازے کا تذکرہ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

۳؎  یعنی وہ دروازہ اس قدر وسعت کے باوجود ان جنتیوں پر تنگ ہوگا کہ ان کے کندھے گویا مل جاویں۔

۴؎  کیونکہ اس حدیث کے الفاظ دوسری صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔

۵؎  یہاں صاحب مشکوۃ سے خطا ہوئی،ان کا نام خالد ابن ابی بکر ہے نہ کہ یخلد،ترمذی اور اسماءالرجال کی کتابوں میں ان کا نام خالد ہی ہے۔(مرقات)

5646 -[35]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا فِيهَا شِرًى وَلَا بَيْعٌ إِلَّا الصُّوَرَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله  علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک بازار ہے جس میں خرید و فروخت نہیں ہیں مگر یہ مردوں عورتوں کی صورتیں ہیں تو جب کوئی شخص کوئی صورت پسند کرے گا تو اس میں داخل ہوجاوے گا  ۱؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎  ظاہر یہ ہی ہے کہ یہاں صورت سے مراد مردانی و زنانی صورتیں ہیں جو نہایت حسین و جمیل و آراستہ ہوں گی۔جو جنتی مرد اور جنتی عورت جس صورت کو پسند کرے گا خود اس کی اپنی شکل و صورت ایسی ہوجائے گی مگر یہ تبدیلی ذات نہ ہوگی بلکہ تبدیلی صفت ہوگی جو دنیا میں بھی ہوتی رہتی ہے گورے کالے ہوجاتے ہیں،کالے گورے بچہ کی صورت اور ہوتی ہے جوانی کی صورت اور بڑھاپے کی کچھ اور۔

5647 -[36]

وَعَن سعيد بن الْمسيب أَنه لقيَ أَبَا هريرةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَفِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ثُمَّ يُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيَبْرُزُ لَهُمْ عَرْشُهُ وَيَتَبَدَّى لَهُم فِي روضةٍ من رياضِ الجنَّة فَيُوضَع لَهُم مَنَابِر من نور ومنابرمن لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُم وَمَا فيهم دنيٌّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟» قُلْنَا: لَا. قَالَ: " كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فلَان ابْن فلَان أَتَذكر يَوْم قلت كَذَا وَكَذَا؟ فيذكِّره بِبَعْض غدارته فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَبِسِعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ. فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ وَيَقُولُ رَبُّنَا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ فِيهَا مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعِ الْآذَانُ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ". قَالَ: " فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَمَا فيهم دنيٌّ فيروعُه مَا يرى عَلَيْهِ من اللباسِ فِيمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ عَلَيْهِ مَا هُوَ أحسن مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ وہ حضرت ابو ہریرہ سے ہے تو جناب ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں الله تعالٰی سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے تمہیں جنت کے بازار میں ملائے ۱؎ تو جناب سعید نے کہا کہ اس میں بازار ہے۲؎  فرمایا ہاں مجھے رسول الله صلی الله  علیہ و سلم نے خبر دی کہ جنت والے جب جنت میں داخل ہوں گے۳؎  تو وہاں اپنے اعمال کے مطابق داخل ہوں گے۴؎  پھر انہیں دنیا میں کے دنوں کے حساب سے ایک ہفتہ میں اجازت دے دی جاوے گی تو اپنی رب سے ملاقات کریں گے ۵؎   اور عرش الٰہی ان پر ہوگا ۶؎  اور رب ان پر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا۷؎ تو ان کے لیے نور کے منبر موتیوں کے منبر یاقوت کے اور زبرجد کے منبر سونے کے منبر چاندی کے منبر رکھے جائیں گے ۸؎  ان میں سے ادنی(حالانکہ ان میں ادنی کوئی نہیں)مشک و کافور کے ٹیلہ پر ہوں گے ۹؎ وہ یہ تصور نہ کریں گے کہ کرسیوں والے ان سے اعلٰی جگہ میں ہیں۱۰؎  حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے فرمایا ہاں کیا تم سورج کے اور چودھویں شب میں چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو ہم نے کہا نہیں فرمایا ایسے تم اپنے رب کے دیکھنے میں شک نہ کرو گے ۱۱؎ اس مجلس میں کوئی باقی نہ رہے گا مگر الله تعالٰی اس کے سامنے بے حجاب موجود ہوگا۱۲؎ حتی کہ ان میں سے ایک شخص سے کہے اے فلاں کے بیٹے فلاں کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تو نے ایسا ایسا کہا تھا اسے اس کی بعض دنیاوی بدعہدیاں یاد دلائے گا۱۳؎  بندہ عرض کرے گا الٰہی کیا تو مجھے بخش نہ دے گا۱۴؎  فرمائے گا ہاں تو میری وسعت رحمت کی وجہ سے اپنے اس درجہ میں پہنچا تو جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر بادل چھا جائے گا ۱۵؎  تو ان پر ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو کبھی کسی چیز میں نہ پائی ہوگی۱۶؎  اور ہمارا رب فرمائے گا کہ اس اعزاز کی طرف جاؤ جو میں نے تمہارے لیے تیار کیا ہوا ہے جو چاہو لو ۱۷؎  تب ہم اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتوں نے گھیرا ہوگا اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل آنکھوں نے نہ دیکھی نہ کانوں نے سنی اور نہ دلوں پر انکا خطرہ گزرا ۱۸؎  تب ہم جو چاہیں گے ہم کو پہنچادیا جاوے گا۱۹؎  وہاں نہ تو خرید ہوگی نہ فروخت اور اس بازار میں بعض جنتی بعض سے ملیں گے ۲۰؎  فرمایا کہ ایک اونچے درجے والا آوے گا وہ اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا حالانکہ ان میں نیچا کوئی نہیں تو اس پر جو لباس یہ دیکھے گا وہ اسے پسند آوے گا ابھی اس کی آخری بات ختم نہ ہوگی کہ اسے اپنے پر اس سے اچھا محسوس ہوگا ۲۱؎  یہ اس لیے ہوگا کہ جنت میں کسی کا غمگین ہونا ممکن نہیں پھر ہم اپنے گھروں کی طرف لوٹیں گے تو ہم سے ہماری بیویاں ملیں گی کہیں گی۲۲؎  خوب آئے اپنے گھر میں پہنچے تو تم اس حالت میں آئے ہو کہ تمہارا حسن و جمال اس سے اچھا ہے جس پر تم ہم سے جدا ہوئے تھے۲۳؎ تب ہم کہیں گے کہ آج ہم نے اپنے رب جبار کے پاس ہم نشینی کی ہے ہمارا حق یہ ہی تھا کہ اس طرح لوٹیں مؤمنین جیسے لوٹے۲۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن