30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ جنت میں گھوڑے کا وجود عبث ہے،مجھے دنیا میں گھوڑے کا شوق ہے اگر وہاں گھوڑا نہ ہوا تو میرا یہ شوق کیسے پورا ہوگا اور اگر میرا یہ شوق پورا ہوا تو ایک عبث بلکہ جنت کے شان کے خلاف چیز موجود ہوگی پھر وہاں وہ گندگی کرے گا،گھاس دانہ چاہے گا،یہ چیزیں وہاں کہاں حضور انور نے جواب ایسا شاندار دیا کہ سبحان الله !
۲؎ یعنی تو جنتی گھوڑے کی فکر نہ کر بلکہ اپنے جنتی ہونے کی فکر کر اگر تو الله کے فضل سے جنتی ہوگیا تو جو تو چاہے گا تجھے ملے گا مگر وہاں کی شان کے لائق،وہاں کا گھوڑا یاقوت کا ہوگا۔
۳؎ یعنی وہ گھوڑا نہ تو مستی کرے گا نہ اڑیل ہوگا نہ اسے لگام وغیرہ کی ضرورت ہوگی،تیرا چاہنا اور اس کا اڑنا اور پل بھر میں مقصود منزل پر پہنچ جانا ہوگا۔
۴؎ طبرانی نے بروایت حضرت ابو ایوب انصاری مرفوعًا نقل فرمایا کہ جنتی لوگ اعلٰی درجہ کے یاقوتی اونٹوں پر سوار ہوکر اپنے دوست و احباب سے ملنے جایا کریں گے،جنت میں صرف اونٹ اور پرندے ہوں گے۔(مرقات)خیال رہے کہ وہاں یہ دنیا کے اونٹ یا پرندے نہ ہوں گے بلکہ خود جنت کی مخلوق ہوں گے جیسے حوروغلمان کہ جنت تو صرف انسانوں کے لیے ہے ہاں چند جانور وہاں جائیں گے،حضور کی اونٹنی قصوا،اصحاب کہف کا کتا،صالح علیہ السلام کی اونٹنی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دراز گوش جیساکہ بعض روایات میں ہے شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
سگ اصحاب کہف روزے چند پئے نیکاں گرفت مردم شد
|
5644 -[33] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جنت والے ایک سو بیس صفیں ہیں ۱؎ جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہیں اور چالیس صفیں باقی ساری امتوں کی ۲؎ (ترمذی،دارمی،بیہقی کتاب البعث والنشور) |
۱؎ صفیں کتنی بڑی ہیں یہ ہمارے خیال و وہم سے وراء ہے ان ایک سوبیس صفوں میں از آدم تا روز قیامت سارے مؤمن آجائیں گے۔
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ کل جنتیوں میں دو تہائی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوگی اور ایک تہائی میں ساری پچھلی امتیں، نوع میں وہ لوگ زیادہ کہ وہ ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ننانوے نبیوں کی امتیں ہوں گی مگر تعداد اشخاص میں یہ امت زیادہ۔خیال رہے کہ اولًا یہ امت تمام جنتیوں کی نصف ہوگی پھر بعد میں اور زیادہ ہو کر دو تہائی ہوجاوے گی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں اس امت کو تمام جنتیوں کا آدھا فرمایا گیا،اس کے اوربھی بہت جواب دیئے گئے ہیں،یہ جواب قوی ہے۔والله اعلم! دیکھو قرآن مجید میں بدری فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بھی فرمائی گئی،تین ہزار بھی،پانچ ہزار بھی کہ وہاں اولًا ایک ہزار آئے،پھر دو ہزار اور آئے جس سے تین ہزار ہوگئے پھر دو ہزار اور آئے جس سے پانچ ہزار ہوگئے ایسے ہی یہاں ہے۔
|
5645 -[34] وَعَن سَالم عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَابُ أُمَّتِي الَّذِينَ يَدْخُلُونَ مِنْهُ الْجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْمُجَوِّدِ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادُ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَقَالَ: خَالِد بن أبي بكر يروي الْمَنَاكِير |
روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میری امت کا وہ دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوں گے اس کی چوڑائی تیز سوار کی رفتار سے تین سال کا ہے۲؎ پھر وہ اس پر تنگ ہوں گے حتی کہ قریب ہوگا کہ ان کے کندھے مل جاویں۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے۴؎ اور میں نے محمد ابن اسمعیل سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا،فرمایا یخلد ابن ابی بکر منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع