30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5632 -[21] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حسن غریب ہے۔ |
۱؎ اگر درجہ سے مراد زینہ سیڑھی کے درجے ہیں تب تو مطلب یہ ہے کہ جنت کی ایک منزل سے دوسری منزل کا فاصلہ اتنا ہے کہ وہاں سو درجوں والا زینہ ہو جس کے ہر دو درجوں کے درمیان سو برس کے فاصلہ کی مسافت ہو اور اگر ان درجوں سے مراد جنت کی منزلیں ہیں تو مطلب ظاہر ہے،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں،دیکھو مرقات یہ مقام۔
|
5633 -[22] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں سو درجے ہیں اگر تمام جہانوں کے لوگ ان میں سے ایک درجے میں جمع ہوں تو وہ ان سب کو کافی ہو ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایک جنتی کو بہت بڑا علاقہ دیا جاوے گا کہ اتنی جنت صرف انسانوں کے لیے اور انسانوں میں بھی صرف مؤمنو ں کے لیے خاص کردی گئی ہے،اگر ہر ایک کا علاقہ بہت وسیع نہ ہو تو پوری امتوں کی کھپت کیسے ہو۔
|
5634 -[23] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى (وفُرُشٍ مرفوعةٍ)قَالَ: «ارْتِفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مَسِيرَةَ خَمْسِمِائَةِ سَنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی الله تعالٰی کے فرمان کے بارے میں وفرش مرفوعۃ فرمایا ان بستروں کی بلندی ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس فرش کی بہت تفسیریں کی گئیں ہیں: (۱)جنت کے ایک درجے کا فرش زمین دوسرے درجے کے فرش زمین سے اتنا اونچا ہے جتنا آسمان زمین سے اونچا(۲)جنتی لوگوں کے گھروں میں جو چارپائیاں ہوں گی جن پر ان کے بستر ہوں گے ان کے پائے اتنے اتنے اونچے (۳)فرش سے مراد وہاں کی حوریں اور دوسرے بیویاں ہیں۔بلندی سے مراد درجے کی بلندی ہے یعنی دنیا کی عورتوں کو ان عورتوں سے کچھ نسبت ہی نہیں جیسے زمین و آسمان میں فرق ہے ویسے ہی انکے درجوں میں فرق ہے۔
|
5635 -[24] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ القمرِ ليلةَ البدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا من وَرَائِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو قیامت کے دن جنت میں جائے گا ان کے چہروں کی چمک چودھویں رات کے چاند کی چمک کی طرح ہوگی اور دوسرا گروہ آسمان میں بہترین چمک دار تارے کی طرح ۱؎ ان میں ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے،ان کی پنڈلی کی مینگ ان سب کے اوپر سے دیکھی جاوے گی۲؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع