30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں،قریب قیامت جب قوم یاجوج و ماجوج کا خروج ہوگا تو قرآن مجید،علم دین،حجر اسود،مقام ابراہیم اور یہ چاروں نہریں دنیا سے غائب کردی جائیں گی،رب فرماتاہے:"وَ اِنَّا عَلٰی ذَہَابٍۭ بِہٖ لَقٰدِرُوۡنَ"۔(مرقات)
|
5629 -[18] وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزحام ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عتبہ ابن غزوان سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا۲؎ کہ دوزخ کے کنارے سے پتھر ڈالا جاوے گا تو اس میں ستر سال گرے گا اس کی تہہ نہ پاے گا ۳؎ رب کی قسم وہ بھری جاوے گی اور ہم سے ذکر کیا گیا کہ جنت کی چوکھٹوں میں سے دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سالوں کا فاصلہ ہے اور اس پر ایک ایسا دن آوے گا جب وہ بھیڑ کی وجہ سے ٹھسا ہوگا۴؎(مسلم) |
۱؎ عتبہ ابن غزوان صحابی ہیں،بدری ہیں،ساتویں مسلمان ہیں کہ ان سے پہلے صرف چھ حضرات ایمان لائے تھے،بڑے تیر انداز تھے۔
۲؎ یا تو حضور انور نے فرمایا یاکسی صحابی نے۔خیال رہے کہ صحابی کی مرسل حدیث بالاتفاق قبول ہے،بعد والوں کے مرسلات میں اختلاف ہے۔(مرقات)
۳؎ الله اکبر ! یہ ہے دوزخ کی گہرائی،پتھر اگر آسمان سے پھینکا جاوے تو صبح سے چلا ہوا شام تک زمین پر پہنچ جاوے مگر دوزخ کے کنارے سے چلا ہوا ستر سال میں اس کی تہہ تک نہ پہنچے،سوچ لو گہرائی کتنی ہے اتنی گہرائی دوزخ کو کفار انسانوں سے بھرنا ہے۔
۴؎ یعنی جنت کے ہر درازہ کی چوڑائی چالیس سال کی راہ ہے اس قدر وسعت کے بعد جب جنتی اس میں داخل ہوں گے تو ان کے کھوئے سے چھلتے ہوں گے اژدھام اور بھیڑ کا یہ حال ہوگا۔خیال رہے کہ یہ ٹھسنا جب ہوگا جب کہ عام جنتی داخل ہوں گے۔سب سے پہلے ہمارے حضور داخل ہوں گے دروازہ کھلے گا انہیں کے لیے،پھر دوسرے انبیاءکرام،پھر حضور صلی الله علیہ و سلم کی امت ترتیب وار پھر دوسری امتیں،جس جماعت کے داخلہ کی باری آوے گی دروازہ ٹھس جاوے گا،الله ہم کو بھی نصیب کرے۔
|
5630 -[19] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ».قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَ حَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُمْ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی فرمایا پانی سے ۱؎ ہم نے عرض کیا جنت کا میڑیل کیا ہے۲؎ فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اور اس کا گارا خالص مشک کا ہے اور اس کی بجری موتی اور یاقوت ہے اس کی مٹی زعفران ہے۳؎ جو وہاں داخل ہوگا خوش رہے گا غمگین نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا کبھی نہ مرے گا،ان کے کپڑے گلیں گے نہیں اس کی جوانی فنا نہ ہوگی ۴؎ (احمد،ترمذی،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع