دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

5206 -[52]

وَعَن جُبَير بن نفير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ وَلَكِنْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ (سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ.واعبد ربَّك حَتَّى يَأْتِيك الْيَقِين)رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية» عَن أبي مُسلم

 روایت ہے حضرت جبیر ابن نفیر سے ارسالًا ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  نے کہ مجھے یہ وحی نہیں کی گئی کہ مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو رہوں۲؎لیکن مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ اپنے رب کی تسبیح بولوں اور سجدہ کرنے والوں میں ہوؤ اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو حتی کہ تم کو موت آجائے۳؎(شرح سنہ ابو نعیم)حلیہ بروایت ابی مسلم۴؎

۱؎ آپ قبیلہ بنی حضرم سے ہیں،آپ نے حضور صلی الله  علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا مگر خلافت صدیقی میں ایمان لائے، ۷۵ھ؁ میں آپ کی وفات ہوئی لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔حضرت جبیر سے جو کہ تابعی ہیں حضور صلی الله  علیہ وآلہ وسلم سے۔

۲؎ یعنی میری زندگی کا مقصد تجارت اور مال جمع کر نا نہیں،میری زندگی کا مقصد تبلیغ نبوت اور الله  کی اطاعت ہے،اپنے پاس بقدر ضرورت کبھی مال رکھنا تجارت کرنا اسی کے تابع ہے۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور صلی الله  علیہ وآلہ وسلم فتح خیبر کے بعد ازواج پاک کو سال بھر کا خرچ عطا فرمادیتے تھے یا یہ کہ حضور انور صلی الله  علیہ وسلم نے تجارت،بکریاں چرانے کا کام کیا ہے۔ظہور نبوت کے بعد حضور صلی الله  علیہ وسلم نے چیزیں خریدیں ہیں فروخت بھی کی ہیں مگر وہ سب عارضی چیزیں تھیں،حضور صلی الله  علیہ وسلم کی زندگی پاک کا مقصد وہ تھا جو آگے ارشاد ہورہا ہے لہذا حضرت عثمان غنی اور دوسرے صحابہ کرام کا تجارتیں کرنا،مال جمع کرنا ممنوع نہیں تھا،اگر مال جمع نہ کیا جاوے تو زکوۃ،حج و عمرہ وغیرہ عبادتیں کیسے کی جاسکتی ہیں۔کام کرنا اور ہے کام میں مشغول ہوجانا کچھ اور۔

۳؎ اس آیت کریمہ میں موت آنے تک تسبیح،نماز اور ہر ممکن عبادات کرنے کا حکم ہے۔یقین سے مراد یقینی چیز یعنی موت ہے خدا کرے مرتے وقت تک کوئی نماز،الله  کا ذکر،مسجد کی حاضری،تکبیر اولیٰ،نوافل،کوئی چیز نہ چھوٹے۔حضرات صوفیاء کے نزدیک یقین سے مراد عین الیقین یا حق القین ہے،بعض مفسرین نے فرمایا کہ تسبیح و نماز تو عبادات ہیں ا ور وَاعْبُدْ رَبَّکَ میں عبودیت کا حکم ہے۔عبادت اور عبودیت میں بڑا فرق ہے، عبادت آسان ہے عبودیت مشکل ہے،اﷲ نصیب کرے۔

۴؎ ابو مسلم خولانی بڑے زاہد،عابد و عالم تھے اور تابعین میں سے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے ملاقات کی ہے،      ۶۲؁ باسٹھ ہجری میں وفات پائی۔

5207 -[53]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَوَجْهُهُ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ. وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا مُكَاثِرًا مفاخرا مرائيا لَقِي الله وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے کہ جو حلال روزی تلاش کرے بھیک سے بچنے کے لیے اور اپنے گھر والوں پر کوشش کرے اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے  ۱؎ وہ قیامت کے دن الله  تعالٰی سے ایسے ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا۲؎ اور جو حلال دنیا طلب کرے مال بڑھانے،فخر و تکبر کرنے،دکھلاوے کے لیے تو وہ الله  سے ملے گا حالانکہ وہ اس پر ناراض ہوگا ۳؎ (بیہقی شعب الایمان اور ابونعیم حلیہ)

۱؎ یعنی مال کمانا تین مقصدوں کے لیے ہونا چاہیے: اپنی ذات،اپنے بال بچوں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے اور یہ تمام کام الله  و رسول کی رضا کے لیے ہوں۔پہلی دو چیزیں واجب ہیں یعنی خود بھیک سے بچنا اور بال بچوں کے حقوق ادا کرنا،تیسری چیز یعنی پڑوسیوں سے مالی سلوک کرنا یہ مستحب ہے واجب نہیں مگر ثواب اس پر یقینی ہے۔

۲؎ یعنی الله  کی رحمت اور دل کی خوشی کی وجہ سے اس کا چہرہ چمکیلا ہوگا۔اس حدیث نے گزشتہ تمام احادیث کی شرح کردی کہ وہاں دنیا جمع کرنے اور دنیا کمانے سے ممانعت جو فرمائی گئی ہے وہاں وہ دنیا مراد تھی جو جائز نیت سے نہ ہو۔نیت خیر سے دنیا کمانا عبادت ہے کیونکہ یہ بہت سی عبادات کا ذریعہ ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن