30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی یارسول الله پھر کھانے کا فضلہ بدن سے کیسے خارج ہوگا،اگر خارج نہ ہوگا تو وہاں تندرستی کیسے قائم رہے گی، نہایت نفیس سوال ہے۔
۴؎ یعنی کھانا تو ڈکار سے ہضم ہوگا اور پانی وغیرہ پسینہ کے ذریعہ خارج ہوگا۔خیال رہے کہ جنت میں دنیا کی سی ڈکار نہ ہوگی جس کی حدیث شریف میں برائی آئی ہے اقسر نا حشاءك مگر وہ آواز کسی قدر اس میں بدبو بلکہ وہ ڈکار ہی اور قسم کی ہوگی،نیز وہاں پسینہ دنیا کا سا نہ ہوگا جو گرمی کی وجہ سے بدبودار تکلیف دہ ہوتا ہے وہ پسینہ اور ہی طرح کا ہوگا نہایت خوشبودار آرام دہ۔
۵؎ سبحان الله! کس نفیس طریقہ سے سمجھایا ہے کہ جیسے دنیا میں تم سانس لیتے تھکتے نہیں ایسے ہی وہاں تسبیح و تہلیل کرتے تھکوگے نہیں،جیسے کہ یہاں سانس ہر وقت ہر حال میں جاری رہتی ہے ایسے ہی وہاں جنت میں تسبیح و تہلیل ہر حال ہر وقت میں جاری ہوگی،جیسے یہاں سانس کسی کام سے روکتی نہیں ایسے ہی وہاں ذکر الله کسی کام سے روکے گا نہیں۔بعض عارفین پاس انفاس کرتے ہیں یعنی ذکر الله ان کی سانس میں جاری ہوجاتا ہے جو سوتے جاگتے کھاتے پیتے جاری رہتا ہے وہ لوگ ایک اعتبار سے دنیا میں ہی جنت میں ہیں۔ مرقات نے فرمایا کہ"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"دو جنتوں سے مراد ایک دنیاوی جنت ہے دوسری اخروی جنت،دنیاوی جنت ذکر الٰہی ہے اخروی جنت اس کا نتیجہ ہے،ارشادباری ہے"اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ"نیک لوگ دنیا میں ہی جنت میں ہیں یعنی ذکر الله کی جنت میں"وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ"کفار دنیا میں ہی دوزخ میں ہیں یعنی غفلت کی دوزخ میں جس کا نتیجہ آخرت کی دوزخ ہے۔
|
5621 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يفْنى شبابُه» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جو جنت میں جائے گا خوش رہے گا کبھی غمگین نہ ہوگا ۱؎ نہ اس کے کپڑے گلیں نہ اس کی جوانی ختم ہو۲؎(مسلم) |
۱؎ کسی قسم کا غم جنتی کو نہ ہوگا اور ہر طرح کی خوشی اسے میسر ہوگی حتی کہ اپنی کافر اولاد کے دوزخ میں جانے کا بھی غم نہ ہوگا،اس سے قطعًا محبت نہ رہے گی،کوئی اپنے کو دوسرے سے ہلکا نہ سمجھے گا۔
۲؎ غرضکہ جنت میں ہر چیز کو قرار ہے تبدیلی کسی چیز میں نہیں،فنا کسی کو نہیں،جوانی،لباس،خوشی عیش ہر چیز ہمیشہ کی ہے کوئی فنا نہ ہوگا حتی کہ وہاں کے پھل کھالینے کے بعد بھی فنا نہیں وہ ہی پھل جو کھایا ویسا ہی باقی"اُکُلُہَا دَآئِمٌ" جیسے ہوا دھوپ استعمال کرنے کے بعد بھی ویسے ہی باقی رہتی ہے۔
|
5622 -[11] 5623 -[12] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أبدا " رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سعید و ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پکارنے والا پکارے گا ۱؎ کہ تمہارے لیے یہ ہے کہ تندرست رہوگے کبھی بیمار نہ ہو گے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوؤگے اور تمہارے لیے یہ کہ خوش رہوگے کبھی غمگین نہ ہوؤگے۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع