دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 7 | مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم

فرماتاہے:"قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ"۔ پردہ اس لیے نہیں ہوگا کہ وہاں لوگ فاسق و فاجر ہوں گے بلکہ اس لیے کہ شرم و حیاء اچھی چیز ہے، بے پردگی میں بے شرمی ہے ہاں دوزخ میں پردہ نہیں ہوگا،وہاں ننگے مردوعورت ایک ہی تنور میں جلیں گے۔

۳؎  کہ مؤمن کبھی اپنے اس گھر میں جاوے گا کبھی اس گھر میں اس جانے میں نہ اسے سواری کی ضرورت پڑی گی نہ دیر لگے گی،آن کی آن میں ہر جگہ پہنچ جاوے گا ہر گھر میں گشت لگائے گا۔

۴؎  خیال رہے کہ جنت پوری جنت کو بھی کہتے ہیں اور وہاں کے ہر باغ کو بھی دوسرے معنی سے یہ تثنیہ بھی ہوتی ہے جمع بھی مگر پہلے معنی سے ہمیشہ واحد ہی آتی ہے جیسے زمین پورے روئے زمین کو بھی کہتے ہیں اور زمین کے حصوں کو بھی یعنی جنتی کو چار باغ ملیں گے، دو باغ وہ جن کے درودیوار برتن سامان درخت وغیرہ سب چاندی کے ہوں گے اور دو وہ جن کی ہر چیز سونے کی ہوگی۔

۵؎  خیال رہے کہ جیسے دنیا کے پھلوں کو جنت کے پھلوں سے کوئی نسبت ہی نہیں صرف نام یکساں ہیں یوں ہی دنیا کے سونے چاندی کو وہاں کے سونے چاندی سے کوئی نسبت نہیں وہاں کا ایک ماشہ سونا دنیا کے منوں سونے سے زیادہ قیمتی ہوگا،یہ ہی حال وہاں کے موتیوں وغیرہ تمام چیزوں کا ہے۔چنانچہ وہاں کا سونا چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگا،یہاں یہ بات کہاں۔

۶؎  اس کی بحث ان شاءالله دیدار الٰہی کی تحقیق میں آوے گی۔یہاں اتنا سمجھ لو کہ کبریائی کی چادر دیدار کرانے کے لیے ہوگی نہ کہ آڑ کے لیے جیسے سورج پر بخارات کی چادر ہو تو بخوبی دیکھ لیا جاتا ہے اگر یہ چادر نہ ہو تو کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا۔

۷؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں جنت عدن لغوی معنی میں ہے یعنی پوری جنت کیونکہ ساری جنت دائمی قیام کی جگہ ہے یعنی دیدار الٰہی جنت ہی میں نصیب ہوگا،قیامت میں یہ دیدار نہ ہوگا وہاں دیدار کی دوسری نوعیت ہوگی۔

5617 -[6]

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ مائةُ درجةٍ مَا بينَ كلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الْأَرْبَعَةُ وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله  علیہ و سلم نے کہ جنت میں سو منزلیں ہیں ہر دو منزلوں کے درمیان فاصلہ ایسا ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان اور فردوس اعلی درجہ ہے جس سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں ۲؎  اور اس کے اوپر عرش ہوتا ہے۳؎  تو تم جب بھی الله سے مانگو تو اس سے فردوس مانگو۴؎(ترمذی)اور یہ حدیث میں نے نہ مسلم، بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں۵؎

۱؎   اب تک دنیا میں پچاس منزلہ عمارتیں بن سکتی ہیں یہ بھی سنا ہے رب جانے غلط ہے یا درست۔یہ منزلیں چھوٹی چھوٹی ہیں وہاں سو منزلہ عمارتیں ہر منزل کی چھت آسمان کی طرح اونچی،بعض روایات میں ہے کہ جنت کی منزلیں قرآن مجید کی آیات کی برابر ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ سو منزلیں ایک جنتی کی ملک ہوں۔(مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے اوپر تلے سو طبقات ہیں،ہر دو طبقات کے درمیان فاصلہ اتنا ہے جتنا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیان ہے۔

۲؎  شارحین فرماتے ہیں کہ فردوس میں تمام وہ نعمتیں جمع ہیں جو دوسری جنتوں میں ہیں،ان سب کے علاوہ اور بہت نعمتیں ہیں۔اس طبقہ میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے جنت کی چاروں نہریں پانی،دودھ،شہد اور شراب طہور کی نہریں جاری ہیں،سب نہروں کا سر چشمہ یہاں ہے۔خیال رہے کہ جنت میں جتنا درجہ اونچا اتنا وہاں آرام زیادہ اور دوزخ میں جتنا طبقہ نیچا اتنی تکلیف زیادہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن