30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5615 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا وَلَقَابَ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَو تغرب» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا ۱؎ اور وہ طے نہ کرسکے گا اور تم میں سے ایک کے کمان کی جگہ جنت میں اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوگا۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ درخت شجرہ طوبی ہے جس کے ہر پتہ پر لکھا ہے لا الہ الا الله محمد رسول الله۔سایہ سے مراد اس کے نیچے کا ایریا وہاں کا علاقہ ہے،یا تجلی الٰہی اور وہاں کی نورانیت،اس کا سایہ ہوگا،یا خود اس درخت کا نور،ظل دھوپ اور روشنی کو بھی کہتے ہیں۔غرضکہ یہ سورج والا سایہ مراد نہیں کہ وہاں سورج نہیں ہوگا۔سو اس سے مراد اتنا عرصہ ہے کہ اگر وہاں دن رات مہینے و سال ہوتے تو سو سال لگتے۔
۲؎ اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے۔قاب کے معنی ہیں برابر یا اندازہ،رب فرماتاہے:"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"کنارہ کمان کو بھی قاب کہتے ہیں۔(اشعہ)اس سے مراد ہے کم سے کم جگہ ورنہ وہاں کسی جنتی کو اتنی چھوٹی جگہ نہ ملے گی وہاں تو ادنی جنتی کا علاقہ دنیا بھر سے زیادہ ہوگا۔
|
5616 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا وَفِي رِوَايَةٍ: طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِم المؤمنُ وجنَّتانِ من فضةٍ آنيتهما مَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَمَا بينَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ على وجههِ فِي جنَّة عدْنٍ ". |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن کا جنت میں ایک کھکلی موتی کا خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی لمبائی ساٹھ میل کی ہے ۱؎ اس کے ہر گوشہ میں اس کے گھر والے ہوں گے کہ دوسروں کو نہ دیکھ سکیں گے۲؎ جن پر مؤمن گشت کرے گا۳؎ اور اس کے دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان چاندی کے ہوں گے۴؎ اور دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان سونے کے ہوں گے۵؎ وہاں کی ہر چیز اور قوم اور رب تعالٰی کو دیکھنے کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہوگی ۶؎ رب کی ذات پر جنت عدن میں ۷؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اندازہ لگاؤ کہ اگر وہ موتی دنیا میں آجاوے تو اس کی قیمت کیا ہو،یہاں تو آدھے ماشے کا ایک سچا موتی کئی ہزار روپیہ کا ہوتا ہے،وہاں تو ساٹھ میل چوڑا ساٹھ میل لمبا ایک موتی ہے پھر اس کی صفائی اس کی چمک دمک کیسی ہےوہ خیال میں بھی نہیں آ سکتی ان شاءالله دیکھ کر ہی پتہ چلے گا الله نصیب کرے۔
۲؎ یعنی اس موتی کے مکان کے چاروں گوشوں میں اس کے مختلف گھر والے آباد ہوں گے کہیں اپنی دنیاوی بیوی بچے، کہیں وہ دنیاوی عورتیں جن کے خاوند کافر مرے اور انکے نکاح میں دی گئیں، کہیں وہ کنواری لڑکیاں جو دنیا میں بغیر شادی فوت ہوئیں،کہیں حوریں خدام ان کے علاوہ انہیں ایک دوسرے کو نہ دیکھنا فاصلہ کی وجہ سے نہ ہوگا کہ جنتی مؤمن کی نگاہ بہت دور سے دیکھے گی بلکہ ان جگہوں میں عمارتیں مختلف ہوں گی،کوٹھیاں بنگلے۔خیال رہے کہ جنت میں پردہ ہوگا،رب فرماتاہے:"حُوۡرٌ مَّقْصُوۡرٰتٌ فِی الْخِیَامِ"اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع