30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۴؎ یعنی ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کے فرق کی وجہ سے ہوگا جیسا عمل جیسا اخلاص ویسی وہاں کی رفتار،یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اعمال سبب رفتار ہیں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب زیادہ اتنی رفتار تیز۔
۱۵؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم پلصراط کے اس محشر والے کنارہ پر قیام فرما ہوں گے،اپنے گرتوں کو سنبھالتے ہوں گے،آپ آخر میں وہاں سے تشریف لائیں گے،مکہ معظمہ سے پہلے مسلمانوں کو ہجرت کرادی آخر میں وہاں سے آپ روانہ ہوئے اس کا ظہور وہاں ہوگا۔
۱۶؎ یعنی آخر میں وہ لوگ آئیں گے جن کو ان کے اعمال چلا نہ سکیں گے یا تو ان کے پاس اعمال نیک ہوں گے ہی نہیں یا ان میں اخلاص وغیرہ نہ ہوگا،عمل میں قوت پرواز اخلاص سے ہوتی ہے۔
۱۷؎ اس طرح کہ جنہیں زخمی کردینے کا حکم ہے انہیں زخمی کرکے چھوڑ دیں گے اورجنہیں دوزخ میں گرانے کا حکم ہے انہیں چھید کرگرادیں گے۔خدا کی پناہ!
۱۸؎ مکروس اسم مفعول ہے،کردسۃ بمعنی ہاتھ باندھنا مکروس دست و پابستہ یعنی اس کنڈے سے ان کے ہاتھ پاؤں بندھ بھی جائیں گے اور دوزخ میں گر کربھی جائیں گے۔
۱۹؎ لہذا جو دوزخ میں گرایا جاوے گا وہ ستر سال میں اپنے ٹھکانے پر پہنچے گا۔
|
5610 -[45] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ مِنَ النَّار بالشفاعة كَأَنَّهُمْ الثعارير؟ قَالَ: «إِنَّه الضغابيس» . |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ایک قوم شفاعت کے ذریعہ آگ سے ایسی نکالی جاوے گی جیسے کہ وہ ثعاریر ہوں ہم نے عرض کیا کہ ثعاریر کیا چیز ہے فرمایا وہ پتلی ککڑیا ں ہیں ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ضغابیس جمع ضغبوس کی جس کا ترجمہ پنجابی زبان میں ہے گلے،اردو میں چھوٹی ککڑی جس پر رواں ہوں وہ بہت نرم اور نازک ہوتی ہے،چونکہ ککڑی بہت جلد بڑھتی ہے اس لیے انہیں اس سے تشبیہ دی گئی کہ وہ بہت جلد بڑھیں گے۔خیال رہے کہ ان کی جسم کی سفیدی بھی شفاعت سے ہوگی لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ وہ کوئلے ہوں گے یعنی کالے کیونکہ دوزخ سے نکلتے وقت تو وہ کالے ہوں گے مگر جنت میں پہنچتے پہنچتے سفید اور گورے ہوجائیں گے۔
|
5611 -[46] وَعَن عُثْمَان بن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُشَفَّعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْعلمَاء ثمَّ الشُّهَدَاء ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی انبیاء،پھر علماء،پھر شہید لوگ ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ اس ترتیب میں علماء کو شہداء پر مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ علماء کے دوات کی روشنائی جس سے وہ دینی تحریر و تصنیف کریں وہ شہیدوں کے خون سے افضل ہے جیسا شیرازی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ابن عبدالبر نے حضرت ابوالدرداء سے ابن جوزی نے حضرت نعمان ابن بشیر سے مرفوعًا روایت کی۔(مرقات)شہید اپنے ستر عزیزوں دوستوں کی شفاعت کرے گا۔خیال رہے کہ یہاں خاص شفاعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع