30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ اس حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر نہیں یہاں اجمال ہے دوسری حدیث میں تفصیل ہے کہ آپ تو حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھیجیں گے وہ حضرات ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان دونوں میں تعارض نہیں صرف اجمال و تفصیل کا فرق ہے۔
۷؎ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بات مؤمنین کی اس عرض کے جواب میں فرمائیں گے کہ آپ تو الله کے خلیل ہیں، فرمائیں گے کہ خلیل کہتے ہیں باہرکے دوست کو یہ شفاعت کبریٰ باہر کا دوست نہیں کرسکتا یہ تو اندرونی دوست جسے کہتے ہیں حبیب اللہ وہی کرسکتے ہیں۔شعر
تم مغز اورپوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو درون سرا تم پہ کروڑوں درود
خیال رہے کہ ہم کو دوستوں سے بھی محبت ہوتی ہے،اپنے عزیزو قرابت داروں سے بھی،اپنے بچوں سے بھی،اپنی بیوی سے بھی،دوست یار بیٹھک میں ملتے ہیں یہ ہیں بیرونی دوست،عزیزواقارب دار عام حالات میں گھر میں آکر ملتے ہیں یہ ہیں درون خانہ کے دوست مگر گھر کے اندر رہنے سہنے والے اپنے بال بچے ہوتے ہیں یہ ہیں اندرونی دوست۔ خلوت صرف بیوی سے ہوتی ہے یہ ہے خاص الخاص محبوبہ راز دار دوست،سارے انبیاء کرام الله کے پیارے ہیں مگر حضور خلوت خاص کے راز دار محبوب ہیں اس لیے موسیٰ علیہ السلام سے رب تعالٰی نے وادی سینا میں جو کلام کیا سب کچھ محبوب کو بتادیا"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"الخ مگر جو کلام معراج کے خلوت خانہ میں اپنے اندرونی محبوب صلی الله علیہ و سلم سے کیا وہ کسی کو نہ بتایا"فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی"وہاں اپنے بندہ کو جو وحی کی وہ کی،یہ ہے اندرون خانہ کی محبت اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ وسلم۔
۸؎ لطف یہ ہے کہ جناب خلیل کو اس وقت یہ یاد نہ رہے گا کہ وہ اندرونی دوست حبیب الله ہے کون تاکہ لوگوں کو تلاش کرنے کا لطف تو آوے اور سب جان لیں کہ آج سواء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے اور کہیں بھیک نہیں مل سکتی یہ بھلانا ہزارہا حکمتوں سے ہوگا۔
۹؎ لوگوں کا حضور انور کی بارگاہ میں پہنچانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رہبری سے ہوگا۔حضور بشارت مسیح ہیں دنیا میں بھی آخرت میں بھی،ہماری جانیں حضرت مسیح علیہ السلام پر فدا کہ وہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بشیر خاص ہیں اور ہوں گے یہاں بھی فرمایا تھا "وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"۔
۱۰؎ حضور کو کلام کرنے عرض و معروض پیش کرنے کی اجازت دی جاوے گی۔شفاعت کی اجازت تو ازل سے دی جاچکی یہ سہرا ان کے سر پر باندھا جاچکا،آپ کا لقب شفیع المذنبین ہوچکا ہے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا شعر
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا بندھا اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
۱۱؎ صلہ رحمی کرنے والوں امانت داری کرنے والوں کی شفاعت کے لیے اُن میں سے دوزخ گرتوں کو سنبھالنے کے لیے یہ دونوں وہاں کھڑے ہوں گے مگر شفاعت کبریٰ حضور ہی کریں گے دروازہ شفاعت کھل جانے کے بعد پھر دوسرے لوگ دوسری چیزیں شفاعت صغریٰ کریں گے۔
۱۲؎ یعنی یا حبیب الله حضور انور ان کی رفتار کو بجلی کی کوند سے تشبیہ کس چیز میں دے رہے ہیں،ان میں کون سی چیز بجلی کی طرح ہوگی، یہ پہلا طبقہ انبیاء کرام خاص اولیاء و علماء ہوں گے۔
۱۳؎ یعنی ہم تیز رفتاری میں بجلی سے تشبیہ دے رہے ہیں مگر سبحان الله! بجلی میں تیزی کے ساتھ ساتھ چمک دمک نورانیت بھی تو ہوتی ہے،ان حضرات کے چہرے چمکتے ہوں گے،سجدے کے داغ بیٹری کا کام دیں گے پلصراط ان کی وجہ سے منور ہوجائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع