30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5608 - 5609- [43] وَعَن حذيفةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ " قَالَ: " فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ ". قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ. ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ. حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا ". وَقَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ» . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت حذیفہ اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی لوگوں کوجمع کرے گا ۱؎ تو مؤمن لوگ کھڑے ہوں گے ۲؎ حتی کہ جنت ان کے سامنے قریب کی جاوے گی۳؎ تو آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے عرض کریں گے اے والد صاحب ہمارے لیے جنت کھلوائیے۴؎ وہ فرمائیں گے کہ تم کو جنت سے نہیں نکالا مگر تمہارے والد کی خطا نے میں اس کام والا نہیں ہوں۵؎ تم میرے فرزند ابراہیم خلیل الله کے پاس جاؤ ۶؎ فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ اس کام والا میں نہیں ہوں میں تو دور کا دوست ہوں ۷؎ ان موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے خوب ہی باتیں کیں ۸؎ تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے میں اس کام والا نہیں ہوں جاؤ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جو الله کا کلمۃ الله کی روح ہیں تو حضرت عیسیٰ فرمائیں گے میں اس کام کا نہیں ہوں تب سب محمد صلی الله علیہ و سلم کے پاس پہنچیں گے ۹؎ آپ اٹھیں گے تو آپ کو اجازت دی جاوے گی۱۰؎ اور امانت رحمت بھیجے جائیں گے وہ پلصراط کے دو طرفہ کھڑے ہوجائیں گے ۱۱؎ دائیں بائیں ان کی پہلی جماعت بجلی کی طرح گزرے گی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا بجلی کے گزرنے کی طرح کون چیز ہے۱۲؎ فرمایا کیا تم بجلی کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلک جھپکنے میں کیسے گزرتی اور جاتی ہے۱۳؎ پھر ہوا کی گزر کی طرح پھر پرندے کی طرح اور تیز مردوں کے دوڑ کی طرح ان کے اعمال انہیں لے جائیں گے۱۴؎ اور تمہارے نبی صراط پر کھڑے ہوئے فرماتے ہوں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۱۵؎ حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز رہ جائیں گے۱۶؎ یہاں تک کہ ایک شخص آئے گا جو چل نہ سکے گا سواء گھسیٹنے کے فرمایا کہ صراط سے دونوں کناروں پر کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جوتابع حکم جس کے پکڑنے کا حکم دیئے جائیں گے۱۷؎ اسے پکڑ لیں گے تو بعض زخمی ہوکر نجات پاجائیں گے اور بعض آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ۱۸؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے کہ دوزخ کی گہرائی ستر سال کی ہے ۱۹؎(مسلم) |
۱؎ محشر میں ساری مخلوق جمع ہوگی،صرف انسانوں کا ذکر ان کی فضلیت کی بنا پر ہے،نیز آگے جنت کے داخلہ کا ذکر ہے جو صرف انسانوں کو میسر ہوگا۔
۲؎ میدانِ محشر سے نجات دلانے کی درخواست تو سارے انسان کریں گے مؤمن ہوں یا کافر مگر جنت کے داخلہ کی شفاعت کی درخواست صرف مؤمن کریں گے کہ یہ نعمت صرف مؤمن انسانوں کو میسر ہوگی اس لیے یہاں مؤمنوں کا ذکر فرمایا۔
۳؎ جنت میدان محشر سے بہت ہی دور ہوگی مگر مسلمانوں کو وہاں سے نظر بھی آوے گی اور قریب بھی محسوس ہوگی جیسے دوربین کے ذریعہ دور کی چیز قریب نظر آتی ہے اس لیے تزلف فرمایا گیا لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ شفاعت کی درخواست محشر میں ہے جنت پلصراط سے وراء ہے،پلصراط کروڑوں میل لمبا پل ہے پھر جنت قریب کیسے ہوگی۔
۴؎ یعنی جنت کا بند دروازہ کھلوایئے۔معلوم ہوا کہ انہیں وہ دروازہ بھی نظر آوے گا،اس کا بند ہونا بھی محسوس ہوگا،نگاہ بہت تیز ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ ہم کو جنت میں د اخل کرایئے کہ ہم پر وہ دروازہ آپ کی شفاعت سے کھل جاوے۔
۵؎ یعنی تم لوگ میری پشت میں تھے اور میرے ذریعہ جنت میں تھے میں نے خطاءً گندم کھالیا باہر آیا تم بھی میری پشت میں باہر آگئے،میں تو تم کو وہاں سے لانے والا ہوں اب وہاں پہنچانے والا کوئی اور ہی ہے۔خیال رہے حضرت آدم صفی الله کا یہ فرمان تواضع و انکساری کی بنا پر ہوگا ورنہ واقعہ اصل یہ ہے کہ انہیں جنت سے باہر لانے والے مردود انسان ہیں کہ ان کی پشت میں کفار منافقین سب ہی تھے۔رب کی منشاءتھی کہ حضرت آدم جنت سے باہر جاویں ان مردودوں کو اپنی پشت سے نکال آویں پھر یہاں خالص ہوکر آویں رہیں بسیں،اگر آپ جنت میں رہ گئے تو یہ مردود بھی یہاں ہی پیدا ہوجائیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع