30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5607 -[42] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضِي مَا بَيْنَ جَنْبَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ». قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ: هُمَا قَرْيَتَانِ بِالشَّامِ بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ.وَفِي رِوَايَةٍ:«فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا» . |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ نے فرمایا کہ تمہارے آگے میرا حوض ہے اس کے دو کناروں کے درمیان ایسا فاصلہ ہے جیسا جرباء اور اذرح کے درمیان ۱؎ بعض روایوں نے کہا کہ یہ دو بستیاں ہیں شام میں جن کے درمیان تین رات کی مسافت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اس میں لوٹے آسمان کے تاروں کی برابر ہیں۲؎ جو وہاں جائے گا اس سے پئے گا تو اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس فرمان عالی کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ جتنا فاصلہ مدینہ منورہ اور جرباء کے درمیان ہے یا مدینہ منورہ اور اذرح کے درمیان ہے اتنا فاصلہ حوض کوثر کے دو کناروں کے درمیان ہے،دوسرے یہ کہ جتنا فاصلہ خود ان دونوں شہروں جرباء اور اذرح کے درمیان ہے اتنا فاصلہ کوثر کے دو گوشوں کے درمیان ہے،دوسرے معنی کو ترجیح ہے۔ (مرقات)بعض نے فرمایا کہ جرباء اور اذرح بالکل قریب قریب ہیں لہذا فاصلہ مدینہ منورہ سے وہاں تک مراد ہے ۔
۲؎ صفائی چمک حسن اور تعداد میں وہاں کے لوٹے آسمانوں کے تاروں کی طرح ہیں۔(مرقات)
۳؎ خیال رہے کہ جنت میں جنتی دودھ شراب طہور وغیرہ پیا کریں گے مگر پیاس کی وجہ سے نہیں بلکہ لذت کے لیے پیا کریں گے۔(مرقات)پیاس تو ہمیشہ کے لیے حوض کوثر کا پانی پیتے ہی بجھ چکی ہوگی،اگر یہ حوض جنت کے اندر ہے تو اس کا پانی بھی پیا کریں گے مگر وہ بھی لذت کے لیے۔
|
5608 - 5609- [43] وَعَن حذيفةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ " قَالَ: " فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ ". قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ. ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ. حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا ". وَقَالَ: «وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ» . وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت حذیفہ اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی لوگوں کوجمع کرے گا ۱؎ تو مؤمن لوگ کھڑے ہوں گے ۲؎ حتی کہ جنت ان کے سامنے قریب کی جاوے گی۳؎ تو آدم علیہ السلام کے پاس حاضر ہوں گے عرض کریں گے اے والد صاحب ہمارے لیے جنت کھلوائیے۴؎ وہ فرمائیں گے کہ تم کو جنت سے نہیں نکالا مگر تمہارے والد کی خطا نے میں اس کام والا نہیں ہوں۵؎ تم میرے فرزند ابراہیم خلیل الله کے پاس جاؤ ۶؎ فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ اس کام والا میں نہیں ہوں میں تو دور کا دوست ہوں ۷؎ ان موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے خوب ہی باتیں کیں ۸؎ تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے میں اس کام والا نہیں ہوں جاؤ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جو الله کا کلمۃ الله کی روح ہیں تو حضرت عیسیٰ فرمائیں گے میں اس کام کا نہیں ہوں تب سب محمد صلی الله علیہ و سلم کے پاس پہنچیں گے ۹؎ آپ اٹھیں گے تو آپ کو اجازت دی جاوے گی۱۰؎ اور امانت رحمت بھیجے جائیں گے وہ پلصراط کے دو طرفہ کھڑے ہوجائیں گے ۱۱؎ دائیں بائیں ان کی پہلی جماعت بجلی کی طرح گزرے گی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا بجلی کے گزرنے کی طرح کون چیز ہے۱۲؎ فرمایا کیا تم بجلی کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلک جھپکنے میں کیسے گزرتی اور جاتی ہے۱۳؎ پھر ہوا کی گزر کی طرح پھر پرندے کی طرح اور تیز مردوں کے دوڑ کی طرح ان کے اعمال انہیں لے جائیں گے۱۴؎ اور تمہارے نبی صراط پر کھڑے ہوئے فرماتے ہوں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۱۵؎ حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز رہ جائیں گے۱۶؎ یہاں تک کہ ایک شخص آئے گا جو چل نہ سکے گا سواء گھسیٹنے کے فرمایا کہ صراط سے دونوں کناروں پر کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جوتابع حکم جس کے پکڑنے کا حکم دیئے جائیں گے۱۷؎ اسے پکڑ لیں گے تو بعض زخمی ہوکر نجات پاجائیں گے اور بعض آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ۱۸؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے کہ دوزخ کی گہرائی ستر سال کی ہے ۱۹؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع